امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت امریکہ تعلقات پر دیے گئے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں صدر ٹرمپ کے جذبات اور ہمارے تعلقات کے مثبت جائزے کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کرتا ہوں اور ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
پی ایم مودی نے یہ بات سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان انتہائی مثبت اور بصیرت انگیز جامع اور اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ اور وزیر اعظم نریندر مودی ہمیشہ دوست رہیں گے، انہوں نے کہا کہ ‘پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔’
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں بھارت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ تیار رہوں گا۔ ہم ہمیشہ سے پی ایم مودی کے دوست رہے ہیں اور رہیں گے۔ وہ ایک عظیم وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ ان کا دوست رہوں گا، لیکن مجھے وہ پسند نہیں جو وہ اس وقت کر رہے ہیں۔ تاہم بھارت اور امریکہ کے بیچ بہت خاص تعلقات ہیں۔ پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ کبھی کبھی ہمارے درمیان کچھ ایسے لمحات آتے ہیں۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ گذشتہ کچھ دنوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کافی کشیدہ ہو گئے تھے۔ اس دوران ٹرمپ کا لہجہ اب نرم پڑ رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ بھارت سے ناراض ہیں کہ وہ روس سے تیل خرید رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے بھارت پر بہت زیادہ (50 فیصد) ٹیرف لگا دیا ہے۔ اس موقعے پر انہوں نے دیگر ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے کے بارے میں بھی بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ سب اچھا چل رہا ہے۔ تاہم ہم یورپی یونین سے بہت مایوس ہیں۔
خیال رہے کہ ایس سی او اجلاس کے بعد امریکی صدر نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے بھارت اور روس کو چین کے ہاتھوں کھو دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے مودی، پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کی تصویر بھی پوسٹ کی تھی۔









