امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: حضرت بل درگاہ میں اشوکا نشان والی افتتاحی تختی کی توڑ پھوڑ کے معاملے میں 50 سے زائد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق پولیس نے واقعے میں ملوث افراد کی تلاش تیز کرتے ہوئے یہ کارروائی کی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ جمعے کی نماز کے بعد پیش آئے واقعے کی ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کے بعد یہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔
ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق: "ابھی تک کسی کو باقاعدہ گرفتار نہیں کیا گیا ہے، البتہ کچھ لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ خواتین کے خلاف بھی کارروائی ہوگی جنہوں نے تختی کی توڑ پھوڑ میں حصہ لیا، تاہم اگر کسی کم عمر کی شمولیت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔”
جمعے کو حضرت بل درگاہ کے اندر اشوکا نشان والی تختی نصب کرنے اور پھر اس کی توڑ پھوڑ کے بعد وادی میں شدید تنازع کھڑا ہوگیا۔ سیاسی جماعتوں نے وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا اور اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور فوری طور پر برطرفی کا مطالبہ کیا۔
سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ "وقف بورڈ کو اس غلطی پر معافی مانگنی چاہیے۔ قومی نشان کا استعمال سرکاری تقریبات کے لیے ہے، مذہبی اداروں میں نہیں۔”
نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور سی پی آئی (ایم) نے کہا کہ مسجد میں اشوکا نشان کا استعمال "اشتعال انگیز” اور "مذہبی توہین” ہے، جبکہ بی جے پی نے تختی کی بے حرمتی کی مذمت کرتے ہوئے اسے "وادی میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کو زندہ کرنے کی کوشش” قرار دیا۔
درگاہ حضرت بل، جہاں نبی کریم ﷺ کا تبرک محفوظ ہے، میں جمعرات کو یہ تختی لگائی گئی تھی جس پر عقیدت مندوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مذہبی مقام پر کسی علامتی نشان یا مجسمے کی جگہ نہیں ہے، کیونکہ یہ اسلامی اصولِ توحید کے خلاف ہے۔
جمعے کی نماز کے بعد کچھ نامعلوم افراد نے تختی کو اکھاڑ پھینکا اور توڑ دیا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔
بی جے پی کی نامزد درخشاں اندرابی نے کہا کہ تختی توڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے اور اُنہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بھی گرفتار کیا جانا چاہیے۔










