امت نیوز ڈیسک//
اسلام آباد/ریاض: پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اور اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ "اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” کے تحت اگر کسی ایک ملک پر بیرونی طاقت کی جانب سے جارحانہ حملہ ہوتا ہے تو وہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
معاہدے پر دستخط اسلام آباد اور ریاض میں بیک وقت منعقدہ تقاریب کے دوران کیے گئے، جن میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت اور فوجی حکام نے شرکت کی۔
دفاعی تعاون میں نیا باب
معاہدے کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب دہشت گردی، سائبر سیکیورٹی، اور خطے میں ابھرتے ہوئے سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں گے۔ دفاعی مشقوں اور فوجی تبادلوں میں اضافہ بھی اس معاہدے کا حصہ ہے۔
قیادت کے بیانات
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ "یہ معاہدہ دونوں برادر ممالک کے درمیان ناقابلِ تسخیر تعلقات کا عکاس ہے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کا پیغام دیتا ہے۔” سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اسے "اسلامی دنیا کے لیے ایک مضبوط ڈھال” قرار دیا۔
علاقائی اور عالمی اہمیت
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے جغرافیائی حالات میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس سے نہ صرف دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ خطے میں طاقت کا نیا توازن بھی قائم ہوگا۔
دونوں ممالک نے عزم ظاہر کیا کہ وہ عالمی امن و استحکام کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ہر قسم کی جارحیت کے خلاف مشترکہ محاذ تشکیل دیں گے۔










