امت نیوز ڈیسک /
سرینگر، 18 ستمبر : جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو گلمرگ میں سیاحتی شراکت داروں پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ جب اپوزیشن نے انہیں سیاحت کے معاملات پر تنقید کا نشانہ بنایا تو انہوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔
ذرائع کے مطابق عمر عبداللہ نے گلمرگ کنوکیشن سینٹر میں بند کمرہ اجلاس کے دوران کہا کہ پیرس ٹور کے حوالے سے انہوں نے مشورہ مانگا تھا اور بتایا گیا تھا کہ پیرس روایتی طور پر جموں و کشمیر کی سیاحتی تشہیر کے لیے ایک اہم منڈی رہا ہے۔ تاہم، ان کا شکوہ تھا کہ جب اپوزیشن نے سخت تنقید کی تو کوئی بھی اسٹیک ہولڈر ان کے حق میں نہیں بولا۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے، جن میں وادی سے باہر دورے اور پہلگام میں سائیکلنگ ایونٹس بھی شامل ہیں، لیکن سیاسی حملوں کے وقت شراکت دار ان کے ساتھ نہیں کھڑے ہوئے۔
اسی دوران عمر عبداللہ نے بعض سرکاری احکامات کے افشا پر بھی ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ وہ روزانہ کئی احکامات پر دستخط کرتے ہیں لیکن صرف چند کو ہی میڈیا اور اپوزیشن تک پہنچایا جاتا ہے۔
اس سے قبل ان کے مشیر نصیر اسلم وانی نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بات پر ناخوش ہے کہ سیاحتی شراکت دار اہم معاملات پر خاموش ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ عمر عبداللہ اور نصیر اسلم وانی آئندہ ہفتے طے شدہ پیرس سیاحتی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔











