لندن/اوٹاوا/کینبرا/لزبن: ایک تاریخی اور اہم سفارتی پیش رفت کے تحت برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال نے باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرلیا ہے۔ اس فیصلے کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے حل کی سمت ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ان چاروں ممالک نے اعلان کیا کہ وہ دو ریاستی حل کو ہی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کا واحد راستہ سمجھتے ہیں۔
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا "ایک اخلاقی اور سیاسی ضرورت ہے تاکہ اسرائیلی اور فلسطینی دونوں امن اور تحفظ کے ساتھ رہ سکیں۔” کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا کہ یہ فیصلہ "فلسطینی عوام کے ریاستی حقوق کی حمایت کرتا ہے جبکہ اسرائیل کے وجود کو بھی یقینی بناتا ہے۔”
آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے زور دیا کہ یہ اقدام "انصاف، وقار اور امن” کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ پرتگال کے وزیرِ خارجہ پاؤلو رنگل نے کہا کہ یہ فیصلہ پرتگال کی "فلسطینی حقِ خودارادیت کی دیرینہ پالیسی” کے مطابق ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے اس اقدام کو "فلسطینی جدوجہد کی تاریخی کامیابی” قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ دہائیوں پر محیط قبضے کے خاتمے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ یہ اقدام "دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہے” اور اس سے امن مذاکرات کو نقصان پہنچے گا۔
ان چار طاقتور مغربی ممالک کی شمولیت کے بعد فلسطین کو تسلیم کرنے والے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد 140 سے زائد ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام مزید یورپی اور دولتِ مشترکہ ممالک کو بھی فلسطین کو تسلیم کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔









