از قلم: شہباز بشیر شاہ
متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
مفتی محمد سلطان ابنِ غلام رسول ابنِ محمد دائم کی ولادت ١٠ مئی ١٩٨١ کو پر فضاء وادیٔ کشمیر کے دلکش گاؤں بگلندر تلیل میں ہوئی۔ اوائلِ عمر ہی میں قرآنِ مجید سے رشتہ جُڑ گیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے مامو جان مولانا غلام محمد شیخ صاحب سے پائی۔ عصری تعلیم تیسری جماعت تک جاری رکھی، جہاں ابتدائی رہنمائی محترم ماسٹر محمد گلاب صاحب (شفیق استاد) کھترن تلیل اور بعد ازاں مرحوم محمد منور اچھورہ سے حاصل کی۔
چھ برس کی عمر میں آپ نے اپنے مربّی و محسن استاد مولانا غلام رسول بیگ صاحب کی نگرانی میں ناظرہ اور حفظِ قرآن کا آغاز ملنگام تلیل میں کیا۔ محض سات برس کی عمر میں آپ کا داخلہ دارالعلوم سوپور میں عمل میں آیا، جہاں قرآنِ مجید کی تکمیل حیرت انگیز سرعت کے ساتھ ہوئی؛ دو ماہ میں دوبارہ ناظرہ کی تکمیل اور آٹھ ماہ کے اندر مکمل حفظ کی سعادت حاصل کی۔ اسی دوران آپ نے اکابر اساتذہ جیسے قاری منصور صاحب (یوپی)، مولانا زبیر صاحب (یوپی) اور قاری علی بشیر صاحب (بہار) سے براہِ راست استفادہ کیا۔
فارسی زبان کی ابتدائی و اعلیٰ تعلیم مولانا زبیر صاحب، مولانا مطیع اللہ صاحب اور مفتی حفیظ اللہ صاحب سے حاصل کی، جبکہ عربی اوّل و دوم کے مرحلے میں مولانا غلام رسول صاحب کپوارہ بھی آپ کے اساتذہ میں شامل رہے۔
١٩٩٤ میں آپ دارالعلوم دیوبند کے داخلہ امتحان میں شریک ہوۓ اور اسی سال دارالعلوم وقف دیوبند میں داخلہ ملا۔ ١٩٩٦ میں دارالعلوم قدیم دیوبند میں امدادی داخلہ لیا اور پھر ١٩٩٧ میں مولانا انظر شاہ صاحب کے درسِ بخاری شریف کی سعادت حاصل کرنے کی غرض سے دوبارہ دارالعلوم وقف کا رُخ کیا، جہاں آپ کا تعلق حضرت مولانا انظر شاہ صاحب سے بہت مضبوط و اُستوار ہو گیا۔ ١٩٩٨ میں آپ نے دورۂ حدیث نہ صرف کامیابی کے ساتھ مکمل کیا بلکہ اوّل پوزیشن حاصل کر کے نمایاں مقام پایا۔
١٩٩٩ میں عربی ادب کی شہرۂ آفاق کتاب "صور و خواطر” (مصنف علامہ طنطاوی) کا درس مولانا نور احمد اسلامی سے ان کے گھر پر لیا۔ ٢٠٠٠ میں آپ نے شعبۂ افتاء سے دوم پوزیشن کے ساتھ فراغت حاصل کی اور اگلے ہی برس سن ٢٠٠١ میں حضرت شاہ صاحب کے حکم پر چند ماہ تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ آخر کار وطن واپسی ہوئی اور ٢٠٠٣ تک آپ نے دارالعلوم فرقانیہ میں تدریس کی شمع روشن رکھی۔ ٢٠٠٤ میں شاہ صاحب کے ارشاد پر ایک سال کے لیے الجمعیۃ الفکریہ مجگاؤں (ممبئی) میں تدریس و افتاء کی خدمت انجام دی۔ ٢٠٠٥ میں آپ کا انتخاب سراج العلوم سرینگر کے لیے ہوا۔ لیکن ٢٠٠٦-٢٠٠٧ میں سراج العلوم کے ساتھ ساتھ آپ نے مدینۃ العلوم میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں، اور بعد ازاں وہاں سے استعفیٰ دے دیا۔ ٢٠٠٨ میں آپ نے آزاد یونیورسٹی کے ذریعے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی، جب کہ باقاعدہ کلاسیں کشمیر یونیورسٹی میں جاری رہیں۔ دورانِ تعلیم، آپ کو اردو ادب کے نامور اساتذہ، بالخصوص پروفیسر فرید پربتی، پروفیسر جاوید قدوس اور پروفیسر نذیر ملک کی علمی سرپرستی حاصل رہی۔ ایم اے کی تکمیل کے بعد آپ کے لیے لیکچرر کے طور پر تقرری کے امکانات بھی موجود تھے، مگر آپ نے اس پیشکش سے انکار کیا۔ اسی دوران ٢٠٠٦ میں آپ نے علمی و دینی رہنمائی کے لیے دارالافتاء کی بنیاد رکھی، جو آپ کی علمی بصیرت، فقہی مہارت اور امت کی دینی رہنمائی کا عظیم مرکز بن گیا۔
آپ نے دینی علوم کی ابتدائی منازل بڑے ذوق و شوق کے ساتھ طے کیں اور قدیم دارالعلوم دیوبند و دارالعلوم وقف دیوبند میں اکابر اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ دورانِ طالب علمى ہی سے نحو، صرف، فقہ اور اصولِ فقہ سے خاص دل چسپی رہی، یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر ان علوم کی متعدد کتب کی تدریس کی توفیق حاصل ہوئی۔ ٢٠١٢ سے فقہ اکیڈمی کے سیمیناروں میں مسلسل شرکت کرتے آرہے ہیں اور علمی و تحقیقی مجالس میں اپنے خیالات پیش کرتے رہے ہیں۔
آپ اردو کونسل جموں و کشمیر کی رکنیت کیساتھ ساتھ تحفظِ ختمِ نبوت جموں و کشمیر کے سرگرم رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ علمی و دینی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی علمی مجالس میں بھی آپ کی شرکت ہوتی رہی، خصوصاً دبئی میں مختلف پروگراموں اور سیمیناروں میں مقالات پیش کیے۔
تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی آپ نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ آپ کی تصانیف میں "ابوحنیفہ محققین کی نظر میں”، "موجودہ عیسائیت”، ‘طلوعِ سحر کے مانند ہے تیرا وجود”، "اسلامی قانون و اجتہاد”، "زکوٰۃ کی منصفانہ تقسیم”، "ایامِ حج”، "عشرۂ اخیرہ”، "قربانی کی فضیلت” اور معتدد مقالات جو مختلف سمیناروں کے لیے لکھے گۓ خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ آپ ننے وقت کے ائمۂ حدیث سے براہِ راست استفادہ کیا، چنانچہ صحیح بخاری انظر شاہ صاحب سے، صحیح مسلم مولانا خورشید عالم صاحب سے، جامع ترمذی مولانا جمیل سکڑوڈی صاحب سے، بخاری ثانی مولانا سالم صاحب سے اور عقیدہ الطحاویہ مولانا خضر صاحب سے پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔
اساتذۂ کرام کی فہرست بھی نہایت وقیع ہے۔ دارالعلوم دیوبند میں آپ نے جن جلیل القدر علماء سے کسبِ علم کیا ان میں شاہ صاحب، مفتی سعید احمد صاحب، مولانا حسن باندوی، مولانا فرید صاحب، علامہ قمر صاحب، مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب، مفتی انوار الحق صاحب، مولانا مشتاق صاحب، مفتی احسان صاحب، مفتی عمران صاحب، مولانا نعیم صاحب، مولانا اسلام صاحب، مولانا عبد اللطیف صاحب، قاری واصف صاحب اور مولانا اسلم صاحب ابنِ قاری طیب صاحب شامل ہیں۔ ان تمام اساتذہ سے اجازتِ حدیث بھی مرحمت ہوئی۔
اس کے علاوہ مدینہ منورہ کے جلیل القدر عالم شیخ عبداللہ المدنی سے فاتحہ کی اجازت، اور مفتی شاہ جہاں افغانی (شاگرد بہ یک واسطہ حضرت مولانا حسین احمد مدنی رح) سے دبٔی میں صحیح بخاری کی اجازت حاصل ہے۔ مزید قراءاتِ سبعہ کی سند بھی حاصل کی، قاری علاء الدین صاحب (استاذ دارالعلوم وقف دیوبند) سے قراءت کی تعلیم اور قاری ابوالحسن صاحب (استاذ دارالعلوم دیوبند) سے سماعت کا شرف بھی حاصل ہوا۔
یوں تدریس، تصنیف و تالیف، علمی و تحقیقی سیمیناروں میں شرکت، بین الاقوامی مجالس میں حاضری، اکابر سے اجازت و اسانید اور امتِ مسلمہ کے فکر و فہم کی خدمت، سبھی پہلو آپ کی علمی و دینی خدمات کو ایک جامع اور نمایاں حیثیت عطا کرتے ہیں۔









