امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 28 اکتوبر : جموں و کشمیر حکومت نے منگل کو قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے رواں سال کے اوائل میں کیے گئے 200 یونٹ مفت بجلی کے وعدے پر عمل درآمد صرف ’پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا‘ کے تحت چھت پر سولر سسٹم نصب ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
سرکاری جواب میں بتایا گیا کہ یہ اسکیم انتودیہ انا یوجنا کے تحت آنے والے 2.22 لاکھ خاندانوں کو فائدہ پہنچائے گی، جن کے گھروں میں 2 کلو واٹ کے سولر پینل نصب کیے جائیں گے۔
جواب میں مزید کہا گیا:
“تفصیلی منصوبہ بندی رپورٹس (DPRs) اور ٹینڈرنگ کا عمل متعلقہ ڈسکامز میں جاری ہے، جبکہ وزارتِ قابلِ تجدید توانائی نے اس منصوبے کو ریسکو/یوٹیلیٹی لیڈ ایگریگیشن (ULA) ماڈل کے تحت اصولی منظوری دے دی ہے۔”
حکومت کے مطابق، جیسے ہی یہ نظام فعال ہوگا، ہر مستحق خاندان کو ماہانہ 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔ حکومت نے کہا کہ یہ ماڈل مالی پائیداری کو یقینی بنائے گا اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نقصان سے بچائے گا۔
بیان میں تاخیر کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا گیا:
“منصوبے میں تاخیر کی وجہ ضروری رسمی کارروائیاں ہیں، جیسے ڈی پی آر کی تیاری، ٹینڈر کو حتمی شکل دینا، اور یو ایل اے ماڈل قائم کرنا۔”
جواب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 6.52 لاکھ اسمارٹ میٹر جموں و کشمیر میں اب تک نصب کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 2.81 لاکھ صرف گزشتہ دو برسوں میں ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم اور وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کے تحت لگائے گئے۔
حکومت نے واضح کیا کہ اسمارٹ میٹروں کی تنصیب، دیکھ بھال یا انتظام کی نجکاری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ صرف منصوبے پر عمل درآمد کے لیے سروس پرووائیڈرز کو معاہداتی اور ریگولیٹری نگرانی کے تحت شامل کیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور جوابدہی برقرار رہے۔(کے این سی)









