امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 29 اکتوبر: پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نہ صرف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) بلکہ جموں و کشمیر کے غریب عوام سے بھی "دھوکہ” کیا ہے، جب انہوں نے اُس تجویز کو مسترد کیا جو کئی دہائیوں پہلے ریاستی زمین پر بنائے گئے کم آمدنی والے خاندانوں کے رہائشی مکانات کے تحفظ کے لیے پیش کی گئی تھی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ معاملہ زمین کی مارکیٹ ویلیو کا نہیں بلکہ لوگوں کے گھروں کا تھا۔
انہوں نے کہا، "اگر کسی غریب خاندان نے بیس یا پچیس سال پہلے چراگاہ کی چند مرلے زمین پر ایک چھوٹا سا گھر بنایا تھا، تو ہم اسی مسئلے کو اٹھا رہے تھے۔ ہم نئی تجاوزات یا موجودہ زمین کے استعمال کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ دو یا تین دہائی پرانی بستیوں کی بات کر رہے تھے۔”
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی جماعت نے ایسے خاندانوں کے تحفظ کی کوشش کی، مگر عمر عبداللہ نے اس اقدام کی مخالفت کی۔
انہوں نے کہا، "بی جے پی نے اسے ’لینڈ جہاد‘ کہا، اور عمر صاحب نے بھی یہی اصطلاح دہرائی، جیسے کہ کشمیر اور جموں کے لوگ زمین پر قبضہ کرنے والے ہوں۔ ایک غریب شخص جس کا گھر 2019 کے بعد منہدم ہوا اور جو اب اپنی چھت بچانے کی کوشش کر رہا ہے، وہ چور نہیں ہے۔”
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی نے اسمبلی میں محدود نمائندگی کے باوجود اس تجویز کی حمایت کی۔
"ہماری صرف تین ووٹیں تھیں۔ ہم نے کہا—یہ ووٹ لے لو، بس غریبوں کے گھر بچا لو۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ اب ہم اور کیا کر سکتے تھے؟” انہوں نے کہا۔
محبوبہ مفتی نے یومیہ اجرت والوں (ڈیلی ویجرز) کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ یہ معاملہ ان کی وزراتِ اعلیٰ کے دوران بھی اٹھایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، "ہم نے ان کی مستقلی کے لیے اقدامات شروع کیے تھے اور ایک آرڈر بھی جاری ہوا تھا، مگر حکومت گرنے سے وہ عمل مکمل نہ ہو سکا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یومیہ اجرت والے آج بھی مشکلات کا شکار ہیں، حالانکہ وہ دہائیوں سے ضروری محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
"یہی لوگ ہمارے پانی، تعلیم، بجلی اور صحت کے نظام کو چلاتے ہیں۔ ان سے باقاعدگی کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر وہ وعدے آج تک پورے نہیں ہوئے،” محبوبہ مفتی نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمر عبداللہ جب یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اختیار نہیں، تو "جب ہماری زمین کے حقوق کے تحفظ کے بل کی بات تھی، تب وہ لوگوں کے خوف اور غیر یقینی کو کم کرنے کے لیے کچھ کر سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔”(کے این ایس)









