امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 04 دسمبر : نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے الزام لگایا ہے کہ انہیں جموں و کشمیر میں مبینہ گھروں کے انہدام کا معاملہ بھارتی پارلیمنٹ میں اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی، جسے انہوں نے “کنٹرولڈ ڈیموکریسی” کی مثال قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں روح اللہ نے کہا کہ وہ مسلسل تین دن سے نوٹس جمع کر رہے تھے تاکہ زیرو آور کے دوران جموں میں عرفاز احمد کے گھر کے مبینہ انہدام کے ساتھ ساتھ ضلع گاندربل میں رپورٹ ہونے والے انہدامی واقعات پر بات کر سکیں۔
ان کے مطابق وہ نہ صرف یہ مسئلہ اٹھانا چاہتے تھے بلکہ جموں کے رہائشی کلدیپ شرما کے انسانی ہمدردی پر مبنی کردار کو بھی ایوان میں سراہنا چاہتے تھے۔
روح اللہ نے دعویٰ کیا کہ تیسرے روز انہیں پارلیمانی مارشل نے مطلع کیا کہ اس موضوع کو “متنازعہ” قرار دیا گیا ہے اور اسپیکر کی ہدایت پر ایسے معاملات کو بحث کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ موضوع تبدیل کریں اور اس کے بجائے کوئی ایسا مسئلہ اٹھائیں جو حکام کے لیے “مناسب” ہو — جسے انہوں نے علانیہ مسترد کردیا۔
روح اللہ نے اس صورتِ حال کو “کنٹرولڈ ڈیموکریسی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق حساس مسائل اٹھانے پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔(کے این ٹی)










