امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 04 دسمبر : جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ سرکاری تعطیل کا اعلان کرنا منتخب حکومت کے نہیں بلکہ مرکز کے اختیارات میں آتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ واپس ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ کی سالگرہ پر چھٹی ہو یا نہ ہو، ان کی عظمت اور مقام عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ ہے۔
عمر نے کہا، "اختیارات کی تقسیم کے تحت یہاں کی منتخب حکومت کو چھٹیوں کے اعلان یا ختم کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ یہ اختیار مرکزی حکومت کے پاس ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ ہمیں ریاستی درجہ واپس دیا جائے تاکہ ہم بڑے اور چھوٹے فیصلے خود لے سکیں۔”
انہوں نے کہا کہ شیرِ کشمیر کی یاد کسی نوٹیفکیشن کی محتاج نہیں۔ "انہیں یاد رکھنے کے لیے چھٹی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لوگ انہیں اپنے دلوں سے یاد کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بہترین کیڈٹ کو دیا جانے والا شیرِ کشمیر سورڈ آف آنر اس احترام کی علامت ہے جو ان کے نام سے جڑا ہوا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر نے اگنی وِیر اسکیم کے حوالے سے کہا کہ یہ بھرتی کا نیا ماڈل ہے اور امید ہے کہ اس اسکیم کے تحت شامل ہونے والے نوجوان بھی ملک کے اتحاد، نظم و ضبط اور خدمت کی روایت کو برقرار رکھیں گے۔
انہوں نے کہا، "ہمیں توقع ہے کہ نئے بھرتی ہونے والے جوان بھی اپنے پیش روؤں کی طرح بھائی چارے اور یکجہتی کی روح کو مضبوط کریں گے۔”
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے دورۂ بھارت کے تناظر میں بھارت۔روس تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو نے ہمیشہ اہم معاملات پر بھارت کا ساتھ دیا ہے۔
عمر نے کہا، "چاہے اسلحے کی فراہمی ہو یا اقوام متحدہ میں، خاص طور پر سلامتی کونسل میں ویٹو کے استعمال کا معاملہ، روس نے ہمیشہ بھارت کا ساتھ دیا ہے۔” تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ روس یوکرین جنگ میں کمی لانے کی طرف بڑھے گا۔ "ہم چاہتے ہیں کہ روس امن کی راہ اختیار کرے اور یوکرین پر حملے بند کرے۔”
سرکاری اداروں کے نام تبدیل کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے شیکسپیئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "گلاب کو کسی بھی نام سے پکاریں، اس کی خوشبو نہیں بدلتی۔” ان کا کہنا تھا کہ عوام کا اصل مسئلہ خدمت اور سہولت ہے، نام نہیں۔
"چاہے اسے راج بھون کہیں یا لوک بھون، مقصد لوگوں کو راحت اور بروقت سہولت دینا ہے۔ ایسے اقدامات تب ہی معنی رکھتے ہیں جب عوام کو حقیقی فائدہ پہنچے،” انہوں نے کہا۔









