امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: معروف کشمیری مذہبی رہنما اور علیحدگی پسند لیڈر میرواعظ عمر فاروق نے جمعہ کو کہا کہ انہیں اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس کا عہدہ ہٹانے پر مجبور کیا گیا۔
میرواعظ نے ایک بیان میں کہا کہ حکام کی جانب سے کچھ عرصے سے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پروفائل میں تبدیلی کریں، کیونکہ حریت کانفرنس کی تمام اکائیوں، جن میں ان کی قیادت میں کام کرنے والی عوامی ایکشن کمیٹی بھی شامل ہے، کو غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) قانون (یو اے پی اے) کے تحت ممنوع قرار دیا جا چکا ہے، جس کے باعث حریت کانفرنس بھی ایک ممنوعہ تنظیم بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بصورت دیگر ان کا اکاؤنٹ بند کر دیا جاتا۔
میرواعظ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب عوامی میدان اور اظہارِ رائے کے ذرائع شدید طور پر محدود کر دیے گئے ہیں، سوشل میڈیا ان چند پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے جو انہیں اپنے لوگوں تک پہنچنے، اپنے خیالات اور مسائل دنیا کے سامنے رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ان حالات میں میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، یہ میرے لیے ایک مشکل اور مجبوری کا فیصلہ تھا۔”








