امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: ڈویژنل کمشنر کشمیر نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے دوران وادی کشمیر میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد تقریباً تین گنا بڑھ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کا پھیلتا ہوا رجحان سماج، خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ڈویژنل کمشنر کے مطابق اسکول اور کالج کے طلبہ سمیت بڑی تعداد میں نوجوان نشے کی لت کا شکار ہو رہے ہیں، جو مستقبل کے لیے انتہائی فکر انگیز ہے۔
ڈویژنل کمشنر نے بتایا کہ حکومت منشیات کے خلاف سخت اقدامات اٹھا رہی ہے، جن میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں، بحالی مراکز (ڈی ایڈکشن سینٹرز) کا قیام اور بیداری مہمات شامل ہیں۔ انہوں نے والدین، اساتذہ، مذہبی و سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس سماجی برائی کے خلاف متحد ہو کر کردار ادا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے مکمل خاتمے کے لیے صرف سرکاری اقدامات کافی نہیں، بلکہ سماج کے ہر طبقے کو آگے آ کر نوجوانوں کو صحیح راستہ دکھانا ہوگا۔
ڈویژنل کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتظامیہ منشیات کے نیٹ ورک کو توڑنے اور متاثرہ نوجوانوں کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی۔









