امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 22 جنوری: جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے جمعرات کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی کہ حال ہی میں اعلان کیے گئے کے سی ایس جوڈیشل امتحان کے نتائج کو فی الحال روکا جائے اور انتخابی عمل کی آزادانہ و غیر جانبدارانہ جانچ کا حکم دیا جائے، کیونکہ نتائج میں علاقائی عدم توازن اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ امتحانی نتائج تشویشناک ہیں، کیونکہ اطلاعات کے مطابق جموں ڈویژن سے 111 امیدوار جبکہ کشمیر ڈویژن سے صرف 13 امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس فرق کو ایک مسابقتی عدالتی بھرتی عمل میں ناقابلِ قبول قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ، جو قانون کا قلمدان بھی رکھتے ہیں، کو اس معاملے میں ذاتی طور پر مداخلت کر کے انصاف کو یقینی بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ محض اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ عدالتی بھرتی نظام کی ساکھ اور عوامی اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔
الطاف بخاری نے بڑھتی ہوئی سیاسی پولرائزیشن پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ وہ اس حوالے سے پہلے بھی خبردار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات بھی پولرائزڈ بنیادوں پر لڑے گئے، جہاں بی جے پی نے جموں جبکہ نیشنل کانفرنس نے کشمیر پر توجہ مرکوز رکھی، جس سے خطے میں تقسیم مزید گہری ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولرائزیشن سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے، لیکن اس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھرتی کے تمام عمل شفاف، منصفانہ اور علاقائی تعصب سے پاک ہونے چاہئیں۔
آخر میں انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ انتخابی عمل کو عارضی طور پر روکا جائے، تمام امیدواروں کے تفصیلی نمبرز عوام کے سامنے لائے جائیں اور دونوں ڈویژنوں کے امیدواروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔




