امت نیوز ڈیسک //
وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ پہلگام حملے کے بعد بعض سیاحتی مقامات کی مسلسل بندش کا معاملہ وہ مرکزی وزیر داخلہ کے ساتھ اٹھائیں گے، کیونکہ طویل پابندیاں ریاست بھر میں سیاحت کے شعبے کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔
اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تقریباً ہر خطے میں سیاحتی امکانات موجود ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ مقامات کو غیر معینہ مدت تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے فروغ پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بند سیاحتی مقامات پر نظر ثانی کی جائے اور انہیں مرحلہ وار طریقے سے دوبارہ کھولنے کے لیے وزیر داخلہ سے بات چیت کی جائے۔
عمر عبداللہ نے سیاحت کے شعبے میں رجسٹریشن کے پرانے اور پیچیدہ نظام کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ 1978 سے رائج یہ نظام فرسودہ ہو چکا ہے جسے فوری طور پر آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کاروبار میں آسانی پیدا ہو۔
انہوں نے کہا،
“مجھے اس بات پر شرمندگی ہے کہ اپنے پہلے چھ سالہ دور حکومت میں یہ کام نہیں ہو سکا، لیکن دیر آید درست آید۔”
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ رجسٹریشن کے عمل کو پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ سے جوڑا نہیں جا سکتا کیونکہ اس قانون کے تحت جرمانے محدود اور غیر مؤثر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس (این او سیز) کے حصول کے عمل کو بھی آسان بنانے کی کوششیں جاری ہیں، کیونکہ یہی تاخیر اور بدعنوانی کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ حکومت کا مقصد بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرتے ہوئے جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ شیکاروں، ہاؤس بوٹس اور ٹیکسیوں کے لیے نئے رہنما اصول متعارف کرائے جائیں گے، جن کے تحت طریقہ کار کو سادہ اور شفاف بنایا جائے گا تاکہ بدعنوانی پر قابو پایا جا سکے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ سیاحت کا براہِ راست یا بالواسطہ تعلق ہر اس علاقے سے ہے جہاں قدرتی یا ثقافتی امکانات موجود ہوں۔ حکومت ایک ایسے سیاحت دوست ماحول کی تشکیل کے لیے پُرعزم ہے جو سیکیورٹی خدشات اور مقامی لوگوں کے روزگار و معاشی ترقی کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔( کے این ٹی)





