امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں جمعہ کو گزشتہ برس ضبط کیے گئے ہزاروں کلوگرام ’’سڑے گوشت‘‘ کا معاملہ گونج اٹھا اور اراکین اسمبلی نے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
حکمران نیشنل کانفرنس (این سی) کے ایم ایل اے میر سیف اللہ، حسنین مسعودی، مبارک گل اور پیرزادہ فاروق احمد شاہ نے اس معاملہ پر اسمبلی میں گفتگو کی اور کولگام کے رکن اسمبلی ایم وائی تارگامی کے علاوہ بلونت سنگھ منکوٹیا سمیت دیگر ایم ایل ایز نے بھی حمایت کرتے ہوئے اس حساس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اراکین کے خدشات کے جواب میں وزیر صحت سکینہ ایتو نے کہا: ’’کہ محکمہ جو کر سکتا ہے وہ کر رہا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس ان کے راست کنٹرول میں نہیں۔ انہوں نے کہا: ’’خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہم زیادہ سے زیادہ جرمانہ عائد کر سکتے ہیں، لیکن کیس درج کرنے یا گرفتاری کا اختیار پولیس کو ہے جو ہمارے کنٹرول میں نہیں۔‘‘ وزیر نے اراکین سے اس معاملے میں بل پیش کرنے میں مدد طلب کی تاہم اسپیکر نے کہا کہ اس معاملے میں ’’حکومت بل پیش کرے گی۔‘‘
یاد رہے کہ گزشتہ برس کشمیر وادی میں سڑے اور ناقابل استعمال گوشت کا تنازع سامنے آیا تھا، جس کے بعد حکومت نے کارروائی انجام دیتے ہوئے سڑے گوشت کو ضبط کیا اور اس ضمن میں خصوصی مہم بھی چلائی۔
جمعہ کو ایوان میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق حکومت نے وادی کے 10 اضلاع میں 1.21 لاکھ کلوگرام ناقابل استعمال گوشت کو تلف/تباہ کیا۔ تباہ کیے گئے سڑے گوشت کی قیمت 29.19 لاکھ روپے بتائی گئی اور زیادہ تر سڑا گوشت سرینگر اور جموں کے شہروں میں تلف کیا گیا۔





