امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر میں گزشتہ آٹھ برس میں گاڑیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم اس کے برعکس عوامی (پبلک) ٹرانسپورٹ کا نظام مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے لوگ نجی گاڑیاں خریدنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
گورنمنٹ اکنامک سروے کے مطابق مارچ 2025 تک جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی مجموعی تعداد 27 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جو 2017 میں تقریباً 14.88 لاکھ تھی۔ صرف سال 2024-25 کے دوران ایک لاکھ 69 ہزار سے زائد نئی گاڑیاں رجسٹر ہوئیں، جو بڑھتی نجی نقل و حمل کی واضح علامت ہے۔
اگرچہ حکومت اس اضافے کو سفری سہولیات میں بہتری قرار دے رہی ہے، تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ عوامی ٹرانسپورٹ کی شدید کمی نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (جے کے آر ٹی سی) محکمہ کے پاس محض 200 مسافر بردار گاڑیاں (بسیں) ہیں جن سے وہ پورے خطے میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بسوں یہ تعداد آبادی کے لحاظ سے انتہائی ناکافی ہے۔
محکمے کے افسران کے مطابق روزانہ مسافروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم از کم 800 بسوں کی ضرورت ہے، مگر اس وقت خطے میں انہیں 600 بسوں کی کمی کا سامنا ہے۔ محدود بس سروس کی وجہ سے دن کے بیشتر اوقات میں مسافروں کو عوامی ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہوتا۔ اور اسی خلا نے نجی گاڑیوں پر انحصار مزید بڑھا دیا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ مناسب بس سروس نہ ہونے کے سبب وہ بینک سے قرض لیکر ذاتی گاڑیاں خریدنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ جس سے نہ صرف اخراجات بڑھ رہے ہیں بلکہ سڑکوں پر رش اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
مسافروں کے مطابق منی بسیں، ٹیکسیاں اور آٹو رکشا وقتی طور پر اس کمی کو پورا تو کرتے ہیں، مگر شام ڈھلتے ہی سڑکوں سے غائب ہو جاتے ہیں، جس سے لوگوں کو غروب آفتاب کے بعد شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔
منسٹری آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر کی سروے (2019–21) کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً 24 فیصد آبادی کے پاس نجی گاڑیاں ہیں، جو ملک میں گوا اور کیرالہ کے بعد تیسرے نمبر پر ہے اور شرح کافی نمایاں سمجھی جاتی ہے۔
نجی ٹرانسپورٹرز کے مطابق اس وقت سرینگر، جموں اور دیگر قصبوں میں تقریباً آٹھ ہزار منی بسیں، دو ہزار بڑی بسیں اور چالیس ہزار کے قریب کیب سروسز ہیں، مگر یہ بھی بڑھتی ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت میں مسلسل توسیع کے باوجود عوامی بسوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ حکومت نے آئندہ برسوں میں بین اضلاع ٹرانسپورٹ کو مضبوط بنانے کا عندیہ دیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق محدود بجٹ کے ساتھ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بحالی ایک بڑا چیلنج ہے۔
سال 2020 میں ایل جی انتظامیہ نے اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت سرینگر اور جموں میں دو سو ای-بسز خدمات کی شروعات کی تاہم تب سے اب تک ان کی تعاد میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا، جس کے نتیجے میں عوامی ٹرانسپورٹ مزید کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک بس سروس کو مؤثر اور قابل اعتماد نہیں بنایا جاتا، نجی گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ جاری رہے گا اور ٹریفک کا دباؤ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔




