امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 16 فروری : جموں و کشمیر ویمنز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے پیر کے روز میونسپل پارک سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کم از کم اجرت میں اضافے اور منیمم ویجز ایکٹ کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے میں بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی اور کم تنخواہ پانے والے ملازمین کو درپیش مالی مشکلات کو اجاگر کیا۔ مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ 5100 روپے ماہانہ معاوضے پر ایک تنہا خاتون کیسے گزر بسر کر سکتی ہے، جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس رقم کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا۔
احتجاج میں شامل خواتین نے یہ بھی الزام لگایا کہ تنخواہیں وقت پر جاری نہیں کی جاتیں، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ اجرتوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے اور موجودہ تنخواہی ڈھانچے کو مہنگائی اور قانونی تقاضوں کے مطابق نظرثانی کر کے بہتر بنایا جائے۔
مظاہرے کا ایک اہم حصہ آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کی حالت زار پر مرکوز تھا۔ ایسوسی ایشن نے ان کے اعزازیہ میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاوضہ ان کی ذمہ داریوں اور خدمات کے مطابق نہیں ہے۔
مقررین نے حکومت سے اپیل کی کہ خواتین کارکنان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک جامع پالیسی مرتب کی جائے اور لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
احتجاج پرامن رہا، تاہم شرکاء نے خبردار کیا کہ مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید شدت دی جائے گی۔ (کے این ٹی)






