امت نیوز ڈیسک //
دبئی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے تہران کے پاس صرف 10 سے 15 دن کا وقت ہے، بصورت دیگر “سنگین نتائج” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر جاری کشیدگی کے دوران دونوں ممالک نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں حالات جنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں بالواسطہ بات چیت کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ایران کا سخت ردعمل
ایران نے اقوام متحدہ کو ارسال کردہ خط میں واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی امریکی جارحیت کا جواب “فیصلہ کن اور متناسب انداز” میں دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود دشمن کے فوجی اڈے اور اثاثے ممکنہ ردعمل کا ہدف بن سکتے ہیں۔
ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں روسی بحریہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں بھی کی ہیں، جن میں لائیو فائر اور اینٹی شپ میزائل تجربات شامل بتائے جا رہے ہیں۔
امریکی فوجی نقل و حرکت
رپورٹس کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ بحر اوقیانوس میں مراکش کے ساحل کے قریب دیکھا گیا ہے اور امکان ہے کہ یہ مشرقی بحیرہ روم کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے درکار قوتیں مارچ کے وسط تک تعینات ہو سکتی ہیں۔






