امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: پی ڈی پی نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکہ۔ہند مجوزہ تجارتی معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اثرات کشمیر پر کس حد تک پڑیں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، تاہم ابتدائی طور پر یہ معاہدہ وادی کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت امریکی مصنوعات پر زیرو ڈیوٹی کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ اس سے قبل یورپی یونین کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا تجارتی سمجھوتہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل سے بات کر کے انہیں اس معاہدے کے ممکنہ منفی نتائج سے آگاہ کیا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر میں زراعت اور باغبانی لاکھوں افراد کا ذریعہ معاش ہے اور یہی یہاں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر امریکی مصنوعات بغیر ڈیوٹی کے بھارتی منڈیوں میں آئیں گی تو اس کا براہ راست اثر کشمیری کسانوں اور باغبانوں پر پڑے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا کیونکہ وادی میں نجی شعبہ پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے کسانوں کو بھارتی اور کشمیری کسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سبسڈی فراہم کرتا ہے، جبکہ جموں و کشمیر کا فوڈ چین اور ٹرانسپورٹ نظام بھی کمزور ہے، جس کے باعث مقامی کسان مسابقت کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2019 کے بعد وادی پہلے ہی معاشی مشکلات اور مسائل کا سامنا کر چکی ہے۔ اگر مرکزی حکومت نے اس معاہدے کو اسی شکل میں نافذ کیا تو کشمیر کے کسانوں کے لیے حالات مزید دشوار ہو جائیں گے۔
محبوبہ مفتی نے مطالبہ کیا کہ امریکی مصنوعات پر کم از کم 50 فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے تاکہ کشمیر کی زراعت اور باغبانی کی صنعت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور مقامی معیشت کو سہارا ملے۔





