امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 25 فروری: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے بدھ کے روز واضح کیا کہ اساتذہ اہلیت امتحان (ٹی ای ٹی) کے حوالے سے کوئی نیا سرکاری حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی یونین ٹیریٹری میں فوری طور پر اس کے نفاذ کی کوئی ضرورت ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے قبل ازیں ہدایت دی تھی کہ تمام ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی کوالیفائی کرنا لازمی ہوگا، تاہم جموں و کشمیر حکومت دیگر ریاستوں اور یوٹیز میں اس ہدایت پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ فائل موصول ہونے کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ پہلے امتحان کے پیٹرن، طریقۂ کار اور عملی اثرات کا مطالعہ کیا جائے گا، اس کے بعد ہی کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ اساتذہ کے لیے اہلیتی امتحان کا تصور نیا نہیں ہے اور یہ مرحوم سابق وزیر اعلیٰ مفتی سعید کے دور میں بھی زیر غور آیا تھا، جب سابق وزیر تعلیم نعیم اختر نے آر ای ٹی امتحانی فریم ورک کے تحت اقدامات شروع کیے تھے۔
تاہم سکینہ ایتو نے زور دے کر کہا کہ اس معاملے میں جلد بازی مناسب نہیں ہوگی، خصوصاً جب جموں و کشمیر میں کئی اساتذہ 25 سے 35 برس تک خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہوں نے معاشرے کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہی کی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں آج طلبہ ڈاکٹر، انجینئر، آئی اے ایس، کے اے ایس افسران، پروفیسر اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اساتذہ کو متاثر کرنے والا کوئی بھی فیصلہ زمینی حقائق اور ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے۔
وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں دو سال کی مہلت دی ہے، اس لیے جموں و کشمیر میں فوری نفاذ کی کوئی جلدی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، “اگر ملک بھر میں یکساں طور پر اس کا نفاذ ہوتا ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے مزید ہدایات موصول ہوتی ہیں تو ہم اس کا جائزہ لیں گے، لیکن فی الحال فوری نفاذ کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔”
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک مبینہ حکم نامے کے بارے میں غیر ضروری ابہام پیدا کیا جا رہا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ (کے این سی)




