امت نیوز ڈیسک //
پنجاب، 24 فروری : جموں کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب کی CT University میں زیر تعلیم کشمیری مسلم طلبہ کو رمضان المبارک کے دوران سحری اور افطار کے بنیادی انتظامات کا مطالبہ کرنے پر ہاسٹل سے نکالنے اور داخلہ منسوخ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
یونین کے بیان کے مطابق متاثرہ طلبہ باقاعدہ فیس ادا کرنے والے بورڈرز ہیں جنہوں نے یونیورسٹی میس میں رمضان کے دوران مناسب اوقات پر کھانا فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم، ان کے جائز مطالبے پر غور کرنے کے بجائے انہیں مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا اور کیمپس خالی کرنے کی وارننگ دی گئی۔ یونین کا دعویٰ ہے کہ بعض سینئر عہدیداروں نے انتظامات کرنے کے بجائے سخت زبان اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔
یونین نے کہا کہ کسی بھی طالب علم کو اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی پر دباؤ یا امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا چاہیے اور تعلیمی اداروں کو آئینی اقدار اور مساوی سلوک کو یقینی بنانا چاہیے۔
یونین نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے معاملے میں فوری مداخلت، غیر جانبدارانہ انکوائری اور متاثرہ طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کی عزت، سلامتی اور تعلیمی مستقبل محفوظ رہ سکے۔




