امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 24 فروری: این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایران میں موجود جموں و کشمیر کے طلبہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی سفارت خانے کی تازہ ہدایت کے بعد فوری طور پر وطن واپس لوٹ آئیں تاکہ کسی ممکنہ فضائی بندش یا ہنگامی صورتحال میں پھنسنے سے بچ سکیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ اگر فضائی حدود بند ہو گئیں تو طلبہ کی واپسی مشکل ہو سکتی ہے اور اہل خانہ میں تشویش پھیل جائے گی۔ انہوں نے کہا، “میں جموں و کشمیر کے بچوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ فوراً واپس آجائیں، بعد میں شاید نکالنے والا بھی کوئی نہ ہو۔”
واضح رہے کہ تہران میں بھارتی سفارتخانہ نے 23 فروری 2026 کو جاری ایڈوائزری میں تمام بھارتی شہریوں، بشمول طلبہ، زائرین، تاجروں اور سیاحوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ دستیاب ذرائع سے ایران چھوڑ دیں۔ سفارت خانے نے مظاہروں سے دور رہنے، سفارت خانے سے رابطے میں رہنے اور سفری دستاویزات تیار رکھنے کی بھی تاکید کی ہے۔
فاروق عبداللہ کی اپیل کے بعد ایران میں زیر تعلیم بھارتی طلبہ کی سلامتی اور بروقت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔




