امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 26 فروری (کے این ٹی): جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے سرحدی دیہات اب تنازع کی علامت نہیں رہے بلکہ “رابطے کی علامت” بن کر ابھر رہے ہیں، کیونکہ حکومت مرکز کے تعاون سے ان علاقوں میں سیاحت اور ہمہ گیر ترقی کو فروغ دے رہی ہے۔
کشمیر یونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت جموں و کشمیر کو جدت طرازی اور علم پر مبنی صنعتوں کا مرکز بنانے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ پائیدار اور مساوی ترقی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
فارغ التحصیل طلبہ کو “مکمل بہار میں جموں و کشمیر کی نئی کونپلیں” قرار دیتے ہوئے انہوں نے خطے کو درپیش اہم چیلنجز، بشمول موسمیاتی تبدیلی، زرعی تبدیلی اور نوجوانوں کی ذہنی صحت، کا ذکر کیا۔
وزیر اعلیٰ نے حالیہ پیش کردہ 2026-27 کے بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایک مالیاتی رہنما قرار دیا جو جدید اور معاشی طور پر مضبوط جموں و کشمیر کی تعمیر کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025 میں معاشی مشکلات کے باوجود خطہ اب صرف سیاحت یا زراعت تک محدود نہیں بلکہ جدت اور عوامی شمولیت پر مبنی حکمرانی کی جانب گامزن ہے۔
سیاحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت روایتی مقامات جیسے گلمرگ اور پہلگام سے آگے بڑھ کر سرحدی سیاحت کو فروغ دے رہی ہے۔ کیرن، گریزاور ٹیٹوال جیسے علاقے، جو ماضی میں تنازع سے وابستہ سمجھے جاتے تھے، اب سیاحتی مقامات کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مرکزی حکومت کے اشتراک سے نو نئے سیاحتی مقامات تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں کو بھی سیاحت کے ثمرات حاصل ہوں۔
ماحولیاتی توازن پر زور دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ موسمیاتی خدشات پالیسی سازی کا مرکزی حصہ ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور موسمی پیٹرن تبدیل ہو رہے ہیں، اس لیے خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے پائیدار ترقی کی حکمت عملی ناگزیر ہے۔(کے این ٹی)





