امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے پانچ ایم ایل ایز کی نامزدگیوں کو چیلنج کرنے والی مفاد عامہ کی عرضی جموں کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ میں آج آخری سماعت کے لیے درج کی گئی ہے۔
مفاد عامہ کی یہ عرضداشت سابق ایم ایل سی اور چیف ترجمان جے کے پی سی سی رویندر شرما کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ رویندر شرما خود ایک وکیل ہیں۔ جمعرات کو جاری کردہ سپلیمنٹری کاز لسٹ میں پی آئی ایل کو جمعہ کا دن سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
کیس کی آخری تاریخ چھ فروری مقرر کی گئی تھی۔ تاہم حکومت ہند کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جب کہ درخواست گزار کے وکیل سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پی سی سین نے عوامی اہمیت کے معاملے میں جلد سماعت کی درخواست کی۔ انہوں نے بینچ کو یہ بھی تجویز کیا کہ وہ درخواست گزار فریق کو دلائل شروع کرنے دیں اور جواب دہندگان کو جواب دینے کے لیے وقت دیں۔
درخواست گزار کے وکیل کے آج بحث شروع کرنے کا امکان ہے۔ پی آئی ایل آج کے لیے جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس راجیش سیکھری کے سامنے ضمنی کیس کی فہرست میں درج ہے۔
اگست 2025 میں وزارت داخلہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ’’لیفٹیننٹ گورنر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں منتخب حکومت کے مشورے کے بغیر پانچ ممبران کو نامزد کر سکتے ہیں۔‘‘ وزارت داخلہ نے اپنے حلف نامے میں دلیل دی تھی کہ ’’ان نامزدگیوں کا حق لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ایک قانونی عہدے دار کی حیثیت سے موجود ہے۔‘‘
حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ’’جموں و کشمیر اسمبلی میں پانچ ممبران کی نامزدگی منتخب جموں و کشمیر حکومت کے دائرہ کار سے باہر تھی۔ جب پارلیمنٹ لیفٹیننٹ گورنر کو یونین ٹیریٹری کی حکومت سے ایک الگ اتھارٹی کے طور پر تسلیم کرتی ہے، تو یہ خود بخود ثابت ہوتا ہے کہ جب کوئی اختیار لیفٹیننٹ گورنر کو دیا جاتا ہے تو اسے ایک قانونی فعل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘‘
مرکز نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ کی دفعہ 15، 15A اور 15B لیفٹیننٹ گورنر کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ دو خواتین، دو کشمیری مہاجرین اور ایک ویسٹ پاکستانی ریفیوجیز (پناہ گزین) کو نامزد کر سکتے ہیں۔ اس سے اسمبلی میں ممبران کی تعداد 90 سے بڑھ کر 95 ہو جائے گی۔
دوسری جانب درخواست گزار روہندر شرما اپنے کیس کے بارے میں پُر امید ہیں۔ انہوں نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا، ’’ہمیں امید ہے، کیونکہ ہمارے پاس ایک اچھا اور مضبوط کیس ہے۔ ہم وزارت داخلہ کی جانب سے دائر کیے گئے دلائل کا جواب دیں گے اور ہمیں امید ہے کہ عدالت میرٹ پر فیصلہ کرے گی۔‘‘




