امت نیوز ڈیسک //
آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ایران بھر میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ تہران سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ سرکاری عمارتوں اور روضوں پر سوگ کی علامت کے طور پر سرخ روشنیاں جلائی گئیں۔ عوام کی جانب سے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خصوصی بیان میں آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کو “عظیم جرم” قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جرم کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور یہ واقعہ عالمِ اسلام اور شیعہ تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، عبوری دور میں ملک کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے ایک سہ رکنی کونسل تشکیل دی گئی ہے، جس میں صدرِ مملکت، چیف جسٹس اور شوریٰ کے ایک رکن شامل ہوں گے۔ یہ کونسل نئی قیادت کے انتخاب تک ریاستی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔
دوسری جانب، سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق، ایران کی مسلح افواج “مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں” کے خلاف سخت کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ایران کے سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا تھا۔ آیت اللہ خمینی نے 1979 کے اسلامی انقلاب کی قیادت کی تھی، جس کے نتیجے میں ایران میں اسلامی جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا۔
حکومتِ ایران نے ملک بھر میں کئی روزہ سوگ اور سرکاری تعطیلات کا اعلان بھی کیا ہے، جبکہ سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، خطے کی صورتحال آئندہ دنوں میں مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔






