امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 4 مارچ : سری نگر پولیس نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور گمراہ کن آن لائن مواد کی تشہیر کے الزام پر آغا روح اللہ اور جنید متو کے خلاف باضابطہ مقدمات درج کر لیے ہیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جھوٹے اور من گھڑت مواد کی گردش سے متعلق موصولہ قابلِ اعتماد اطلاعات کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ زیرِ بحث مواد عوام میں خوف و ہراس پھیلانے، امنِ عامہ کو متاثر کرنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کو ہوا دینے کا باعث بن سکتا تھا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا مواد غیر مصدقہ اور مسخ شدہ بیانیے پر مشتمل تھا، جو عوامی بے چینی اور سماجی بدامنی کا سبب بن سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق دانستہ طور پر غلط معلومات کی تشہیر امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
اس حوالے سے سائبر پولیس اسٹیشن سری نگر میں ایف آئی آر نمبر 02/2026 اور 03/2026 بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 197(1)(d) اور 353(1)(b) کے تحت درج کی گئی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
سری نگر پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی خبر یا مواد کو شیئر کرنے سے قبل مستند اور سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق ضرور کریں اور غیر مصدقہ معلومات کی اشاعت سے گریز کریں تاکہ امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق مزید کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔











