امت نیوز ڈیسک //
دبئی: 20 مارچ: اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے اہم قدرتی گیس کے ذخیرے ساوتھ پارس پر مزید حملے فی الحال روک دے گا، جبکہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں تیل اور گیس تنصیبات پر جوابی حملوں نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بتایا کہ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر کیا گیا، کیونکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔
خلیجی تنصیبات پر حملے، عالمی سپلائی متاثر
ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں قطر، سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں گیس اور تیل کی عالمی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔
قطر کے راس لفان ایل این جی مرکز کو پہنچنے والے نقصان سے گیس برآمدات میں تقریباً 17 فیصد کمی آئی ہے اور حکام کے مطابق اس کی مرمت میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز پر خطرات
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں پر دباؤ کے باعث دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل سپلائی خطرے میں پڑ گئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر گہرے اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔
جنگ کا انسانی نقصان
جنگ کے تیسرے ہفتے تک ایران میں 1400 سے زائد افراد ازجان جبکہ اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں سے کم از کم 15 افراد مارے جا چکے ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔






