جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا پانچواں بجٹ اجلاس اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور سرکاری شیڈول کے مطابق اس کے 4 اپریل 2026 کو اختتام پذیر ہونے کا امکان ہے۔ اسمبلی اجلاس 2 فروری 2026 کو لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب کے ساتھ شروع ہوا تھا، جس کے بعد ایوان میں خطاب پر شکریہ کی تحریک، بجٹ بحث اور دیگر قانون سازی کے امور پر تفصیلی کارروائی ہوئی۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے 6 فروری کو مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا، جس کے بعد کئی دنوں تک بحث، محکمانہ مطالباتِ زر اور منظوری کا عمل جاری رہا۔ اسمبلی کا یہ اجلاس دو مرحلوں میں منعقد ہوا۔ پہلا مرحلہ فروری میں ہوا جبکہ ماہ رمضان اور عید کے دوران اجلاس میں وقفہ دیا گیا اور بعد ازاں عید کے بعد دوبارہ کارروائی شروع کی گئی۔ دوسرے مرحلےمیں سرکاری بلوں کے علاوہ پرائیویٹ ممبران بلز کو فہرست میں رکھا گیا۔ جن میں شراب بندی، زرعی اصلاحات، صحت کے نظام کے ضوابط اور سماجی بہبود جیسے مختلف اہم موضوعات شامل ہیں۔ایوان میں اس دوران ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے اگر چہ کوئی بات نہیں کی گئی تاہم عارضی ملازمین کی مستقلی اور ریزرویشن پالیسی کے ساتھ ساتھ لینڈ گرانٹس کے معاملے پر زبردست بحث اور ہنگامہ آرائی ایوان میں نظر آئی۔ یہاں تک کہ این سی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر بشیر احمد ویری کے خلاف اپنے ہی اراکین اسمبلی نظر آئے۔اور وہ اس مرتبہ اپنے ہی اراکین اسمبلی میں پرائے نظر آئے۔دراصل ڈاکٹر بشیر ویری نے جموں و کشمیر ریزرویشن ایکٹ 2004ء میں ترمیم کرنے کا بل اپنی ہی پارٹی کی مخالفت کے باوجود ایوان میں پیش کیا۔اس دوران اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ویری نے حکومت اور اراکین سے گزارش کی کہ انہیں اپنا بل پیش کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا، ”میرا ایک ہی بیٹا ہے جو لندن چلا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ واپس نہیں آئے گا کیونکہ یہاں ہمارے لیے کوئی مواقع نہیں ہیں۔“ جذباتی انداز میں ویری نے کہا کہ انہوں نے اپنے حلقے کے نوجوانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ریزرویشن پالیسی کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے ایوان سے اپیل کرتے ہوئے کہا، ”اللہ کے لیے میرے بچوں کے لیے اس بل کو پیش کرنے کی اجازت دیں۔“ تاہم جب بل کو ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا تو اسے خاطر خواہ حمایت نہ مل سکی۔ صرف پی ڈی پی چار اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا،جبکہ حکومتی اراکین نے اس کی مخالفت کی۔ حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے وزیر سکینہ ایتو نے کہا کہ ریزرویشن ایک حساس معاملہ ہے اور اس پر تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی ہدایت پر قائم کابینہ ذیلی کمیٹی نے مقررہ وقت میں اپنی رپورٹ مکمل کی، جسے منظوری کے بعد لیفٹیننٹ گورنر کو حتمی فیصلے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ اسکے بعد دو اپریل کو جب بشیر ویری کے حوالے سے پوچھا گیا تو سریندر چودھری نے اسمبلی میں رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اسمبلی گزشتہ اجلاس میں بھی عمر عبداللہ ڈاکٹر بشیر ویری پر طنز کرتے نظر آئے۔ آغا روح اللہ کے بعد ڈاکٹر بشیر ویری دوسرے ایسے لیڈر ہیں جن کی پارٹی لیڈر شپ کے ساتھ دوریاں نظر آرہی ہیں۔
وہیں پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ کایومیہ اجرت اور عارضی ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق پیش کیا گیا نجی بل ایوان نے مسترد کر دیا، جس کے بعد پی ڈی پی اراکین نے احتجاجاً اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔اس دوران اسمبلی میں وحید پرہ اور اسمبلی سپیکر عبدالرحیم راتھر کیساتھ عمر عبداللہ کے درمیان شدید تکرار دیکھنے کو ملی۔ پی ڈی پی کے اراکین اسمبلی کی جانب سے ایوان سے واک آؤٹ کے بعد بل پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ نے کہا: ’’ایسا لگتا ہے کہ پی ڈی پی ارکان کا واحد مقصد خبروں میں رہنا ہے اور وہ ہمیشہ ایوان کو گمراہ کرتے ہیں۔ قبل ازیں جب ایوان میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر حملے کی مذمت کی گئی تب بھی انہوں نے سیاست کی اور اس مسئلے کو پی ڈی پی نے محبوبہ مفتی کی سرکاری رہائش کے ساتھ جوڑ دیا۔”وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "پی ڈی پی چاہتی ہے کہ وہ تنویر صادق کے لینڈ گرانٹ کی بحالی کے بل کو پیش کرنے کی مخالفت کرے تاکہ وہ اس کا فائدہ اٹھا سکیں۔ لیکن اس بل کی اجازت دے کر، پی ڈی پی کے پاس شور مچانے کا کوئی آپشن نہیں بچا اب ڈیلی ویجرز کے معاملے پر بھی وہ محض شور مچاتے ہیں، انہیں ان مزدوروں سے کوئی محبت نہیں ہے صرف ڈرامہ کرنا چاہتے ہیں۔” اسکے بعد سپیکر نے وحید پرہ کے بل پر ووٹ طلب کیا تاہم ایوان نے اسے مسترد کر دیا۔ اسکے ساتھ ساتھ سی پی آئی (ایم) سے رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے بھی عارضی ملازمین کو لے کر بل پیش کیا۔ اس بل پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ ڈیلی ویجز کی مستقل ملازمت کے عمل کو اس مالی سال کے دوران مرحلہ وار شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بل کی مخالفت جذبات یا مقصد کے خلاف نہیں، بلکہ اس وقت پیش کرنے کے متعلق ہے، خاص طور پر جب حکومت نے حال ہی میں اس معاملے پر اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر نے اس امر کی بھی یقین دہانی کرائی کہ ملازمین کے خدشات کو مکمل طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور ان کی مستقل ملازمت حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے بل پر ایک تعمیری رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ اس وقت ایک کمیٹی کے زیر جائزہ ہے اور اس کی رپورٹ کا انتظار کیا جانا چاہیے۔حکومت کی یقین دہانی کے بعد تاریگامی نے اپنا بل واپس لیا۔ جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قریب 72 نجی ممبران بلیں جمع کی گئی ہیں جن میں سے ایک درجن سے زائد ہی اسمبلی میں پیش ہوئیں اور سرکار کی یقین دہانی کے بعد متعدد اراکین نے کئی بلیں واپس لے لی ہیں۔





