امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: جموں و کشمیر میں انسداد بدعنوانی کی کارروائیوں کے دوران رشوت ستانی کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جن میں ریونیو محکمہ کے اہلکار، خصوصاً پٹواری، نمایاں طور پر ملوث پائے گئے ہیں، تاہم حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی جامع اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
کشمیر نیوز ٹرسٹ (کے این ٹی) کے مطابق اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے مختلف اضلاع میں کئی ٹریپ کارروائیاں کرتے ہوئے چارج شیٹس دائر کی ہیں، جن میں اکثر پٹواری زمین سے متعلق خدمات کے عوض رشوت لیتے ہوئے پکڑے گئے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عوام کی جانب سے اراضی کے نظام میں بدعنوانی کے حوالے سے مسلسل شکایات سامنے آ رہی ہیں، جو خطے میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سرکاری خدمات میں شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ وقتاً فوقتاً کیسز کی تفصیلات جاری کی جاتی ہیں، لیکن ایسا کوئی سرکاری ڈیٹا موجود نہیں جو یہ واضح کرے کہ کتنے پٹواری، تحصیلدار یا نائب تحصیلداروں کے خلاف رشوت کے مقدمات درج یا چارج شیٹ کیے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اے سی بی کا ریکارڈ کیس کی بنیاد پر رکھا جاتا ہے اور عہدوں کے حساب سے مجموعی اعداد و شمار مرتب نہیں کیے جاتے۔
ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، “ہر کیس کو علیحدہ طور پر دستاویزی شکل دی جاتی ہے، کسی مخصوص کیٹیگری کے تحت مجموعی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔”
دستیاب معلومات کے مطابق زیادہ تر ٹریپ کیسز میں پٹواری ملوث پائے گئے ہیں، جو انتقال اراضی، ریونیو ریکارڈ کی نقول کے اجرا اور تصدیق جیسے امور کے لیے مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیے گئے۔
حکام کے مطابق تحصیلدار اور نائب تحصیلدار نسبتاً کم ٹریپ کارروائیوں میں پکڑے جاتے ہیں، تاہم وہ بڑے مالی معاملات یا منظم بدعنوانی کے کیسز میں چارج شیٹس میں شامل ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی ایک وجہ ریونیو اہلکاروں کا عوام سے براہِ راست رابطہ ہے، کیونکہ پٹواری زمین سے متعلق امور میں پہلا رابطہ ہوتے ہیں، جس سے شکایات اور کارروائیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
مختلف اضلاع کے عوام نے بھی معمول کی سرکاری خدمات کے لیے غیر رسمی ادائیگیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جنوبی کشمیر کے ایک رہائشی نے کہا کہ “ایسا نظام ہونا چاہیے جہاں تمام عمل شفاف اور آن لائن ہو تاکہ بدعنوانی میں کمی آئے۔”
جامع اعداد و شمار کی عدم دستیابی نے شفافیت اور پالیسی سازی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں شکایات اور شواہد کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگر وقتاً فوقتاً عہدہ وار اعداد و شمار جاری کیے جائیں تو اس سے احتساب اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔






