امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 6 اپریل: آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AIMSA) نے سعودی عرب میں ایک کشمیری نرس کی حراست کے معاملے پر وزارتِ خارجہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے، جبکہ اہلِ خانہ سے رابطہ نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ اپیل AIMSA کے نائب صدر ڈاکٹر محمد مومن خان کی جانب سے کی گئی ہے، جو ضلع بارہمولہ کے پٹن علاقے سے تعلق رکھنے والے امجد علی بٹ کے کیس سے متعلق ہے۔ امجد علی بٹ دمام میں بطور نرس اسپیشلسٹ خدمات انجام دے رہے تھے۔
تنظیم کے مطابق، انہیں 25 مارچ 2026 کو سعودی سول ڈیفنس فورسز نے حراست میں لیا تھا، تاہم اس کے بعد سے ان کے اہلِ خانہ اور آجر کو ان کے مقام یا الزامات کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی، جس سے ان کی سلامتی اور قانونی حیثیت پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
AIMSA کا کہنا ہے کہ یہ حراست ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد عمل میں آئی، جسے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حق میں پیغام قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ڈاکٹر مومن خان نے وزارتِ خارجہ اور ریاض میں بھارتی سفارتخانے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے امجد علی بٹ سے رابطہ قائم کریں اور ان کی خیریت کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا، “طویل عرصے تک رابطے کا نہ ہونا اہلِ خانہ کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری اقدامات کرتے ہوئے امجد کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور ان کی رہائی کے لیے کوششیں کی جائیں۔”
تنظیم نے اہلِ خانہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس معاملے کے فوری سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
یہ واقعہ بیرونِ ملک کام کرنے والے بھارتی شہریوں کے معاملات میں رابطے کی کمی پر سوالات اٹھاتا ہے اور قونصلر رسائی و قانونی وضاحت کے لیے سفارتی چینلز کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔






