امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن، 6 اپریل: امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں مار گرائے گئے امریکی جنگی طیارے کے لاپتہ اہلکار کو ایک جرات مندانہ ریسکیو آپریشن کے بعد بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بتایا کہ امریکی فوج نے کئی گھنٹوں پر مشتمل ایک انتہائی خطرناک سرچ اینڈ ریسکیو مشن کے ذریعے ایک سینئر افسر، جو کہ کرنل کے عہدے پر فائز ہیں، کو دشمن کے علاقے سے بحفاظت نکال لیا۔ انہوں نے کہا کہ اہلکار زخمی ضرور ہوئے ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
امریکی صدر کے مطابق اس آپریشن میں درجنوں طیاروں نے حصہ لیا اور جدید ترین ہتھیاروں سے لیس فورسز کو تعینات کیا گیا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: “ہم اپنے کسی بھی فوجی کو میدان میں نہیں چھوڑتے۔”
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی فضائیہ کا ایک F-15E اسٹرائیک ایگل طیارہ ایران کے اوپر مار گرایا گیا تھا۔ اس حادثے میں ایک اور عملے کے رکن کو پہلے ہی زندہ بچا لیا گیا تھا اور اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ دشمن کے علاقے میں گرائے گئے ایک ہی طیارے کے دونوں پائلٹس کو الگ الگ کامیابی سے ریسکیو کیا گیا ہو۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے امریکی طیارے کا ملبہ حاصل کر لیا ہے اور پائلٹ کی تلاش جاری ہے، جبکہ کچھ مقامی گروہوں نے امریکی ریسکیو ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ بھی کی۔
رپورٹس کے مطابق یہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی پائلٹ والے جنگی طیارے کو ایران کے اوپر مار گرایا گیا ہو۔ مزید برآں ایک اور امریکی طیارہ A-10 تھنڈر بولٹ II بھی نشانہ بنا، تاہم اس کا پائلٹ جہاز کو ایرانی حدود سے باہر نکالنے کے بعد محفوظ طریقے سے باہر نکلنے میں کامیاب رہا اور بعد میں اسے بھی ریسکیو کر لیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور صورتحال کسی بھی وقت مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔






