امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: حکام کے مطابق نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ہفتہ کو دہلی میں کشمیر کے بزرگ علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کو سال 1996 کے ایک مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ہے، یہ مقدمہ جموں و کشمیر میں درج ہے۔ شبیر شاہ کو گزشتہ ماہ ضمانت پر رہا کیا گیا تھا تاہم ضمانت میں بغیر کورٹ اجازت کے دہلی سے باہر جانے کی ممانعت تھی۔
شاہ کو جمعہ کی شام پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ایجنسی کو تین دن کا ٹرانزٹ ریمانڈ دیا، جس کے تحت انہیں مزید کارروائی کے لیے جموں و کشمیر لے جایا جائے گا۔ حکام نے بتایا کہ شاہ کو ہوائی جہاز کے ذریعے یونین ٹیریٹری منتقل کیا جائے گا اور پیر کے روز مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
علیحدگی پسند لیڈر کے اہل خانہ نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: "ہمیں کل عدالت میں اس کی اطلاع ملی، لیکن ہم ان سے بات نہیں کر پائے ہیں۔”
یہ مقدمہ 17 جولائی 1996 کو سرینگر کے شیرگڑھی پولیس اسٹیشن میں درج ایک ایف آئی آر سے منسلک ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ہلاک کیے گئے ملی ٹنٹس کے جنازے کے جلوس کے دوران پیش آیا۔ جلوس کے دوران بلند کیے گئے نعروں کے باعث مبینہ طور پر کشیدگی پیدا ہوئی، جو بعد میں پرتشدد شکل اختیار کر گئی۔ سیکیورٹی ایجنسیز کا دعویٰ ہے کہ اس دوران مسلح عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی، جس میں کئی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
شاہ کی یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند ہفتے قبل شاہ کو کئی مقدمات میں قانونی راحت ملی اور 12 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک الگ این آئی اے کیس میں انہیں ضمانت دی تھی، جبکہ 28 مارچ کو منی لانڈرنگ کے ایک اور مقدمے میں بھی انہیں ضمانت مل گئی تھی، تاہم کورٹ نے انہیں دہلی سے باہر جانے سے منع کیا تھا اور طلب کیے جانے پر ایجنسیز کے سامنے پیش ہونے کی شرط پر ہی ضمانت دی تھی۔





