• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, مئی ۱, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

عالمی یومِ ویٹرنری:ویٹرنری خدمات، ایک خاموش مگر اہم کردار

اعجاز طالب

by امت ڈیسک
01/05/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

جموں و کشمیر کے تناظر میں مویشی صحت، معیشت اور انسانی بہبود کا اہم ستون

ہر سال اپریل کے آخری ہفتے میں28اپریل دنیا بھر میں عالمی یومِ ویٹرنری منایا جاتا ہے، جس کا مقصد ویٹرنری ڈاکٹروں، نیم ا ویٹرنری عملے اور مویشی صحت کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن صرف جانوروں کے علاج معالجہ تک محدود نہیں بلکہ انسانی صحت، غذائی تحفظ، معاشی استحکام اور ماحولیاتی توازن سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ جموں و کشمیر جیسے خطے میں، جہاں بڑی آبادی کا انحصار زراعت اور مویشی پروری پر ہے، ویٹرنری خدمات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔جموں و کشمیر کی معیشت میں مویشی پروری ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ دیہی علاقوں میں لاکھوں افراد دودھ، گوشت، اون اور دیگر مویشی مصنوعات سے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ خاص طور پر کشمیر وادی میں گائے، بھیڑ اور بکری پالنا ایک قدیم روایت ہے، جب کہ جموں کے میدانی علاقوں میں ڈیری فارمنگ زیادہ عام ہے۔یہ شعبہ نہ صرف غذائی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ بے روزگاری کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خواتین کی بڑی تعداد بھی اس شعبے سے منسلک ہے، جو گھریلو سطح پر دودھ کی پیداوار اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔

ویٹرنری خدمات: ایک خاموش مگر اہم کردار

ویٹرنری ڈاکٹر اور عملہ اکثر پس منظر میں رہ کر کام کرتے ہیں، لیکن ان کی خدمات انتہائی اہم ہوتی ہیں۔ جانوروں کی بیماریوں کی تشخیص، علاج، ٹیکہ کاری اور صحت کی نگرانی کے ذریعے وہ نہ صرف مویشیوں کی جان بچاتے ہیں بلکہ انسانوں کو بھی خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔زونوٹک بیماریوں، جیسے ریبیز، برڈ فلو اور دیگر متعدی امراض، کا پھیلاو¿ روکنے میں ویٹرنری ماہرین کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ بیماریاں ہیں جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہیں، اس لیے ویٹرنری شعبہ دراصل انسانی صحت کے نظام کا بھی ایک لازمی حصہ ہے۔جموں و کشمیر میں ویٹرنری شعبہ کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ دور دراز پہاڑی علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی، ماہر ڈاکٹروں کی قلت، جدید لیبارٹریز کا فقدان اور موسمی سختیاں ان میں شامل ہیں۔سردیوں کے موسم میں جب کئی علاقے برف سے ڈھک جاتے ہیں، تو مویشیوں کی دیکھ بھال مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ اس دوران بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جب کہ خوراک کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔اسی طرح، موسمیاتی تبدیلی بھی مویشی پروری پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ درجہ حرارت میں تبدیلی، بارشوں کے طریقہ کار میں فرق اور چراگاہوں کی کمی مویشیوں کی صحت اور پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔

حکومتی اقدامات اور پالیسیاں

جموں و کشمیر حکومت نے مویشی پروری کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ موبائل ویٹرنری یونٹ، ٹیکہ کاری مہمات، اور کسانوں کے لیے تربیتی پروگرام اس سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں۔حکومت کی جانب سے ڈیری فارمنگ کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی اسکیمیں بھی متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مصنوعی نسل کشی (Artificial Insemination) کے پروگرام کے ذریعے اعلیٰ نسل کے مویشی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔جموں و کشمیر میں ویٹرنری تعلیم کو فروغ دینے کے لیے مختلف ادارے کام کر رہے ہیں، جہاں طلبہ کو جدید علوم سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ تحقیق کے میدان میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے، خاص طور پر مقامی نسلوں کی بہتری اور بیماریوں کے تدارک کے حوالے سے کام شدو مد سے جاری ہے۔

خواتین کا کردار

مویشی پروری میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔ گھریلو سطح پر جانوروں کی دیکھ بھال، دودھ دوہنا، اور دیگر سرگرمیاں زیادہ تر خواتین ہی انجام دیتی ہیں۔ ویٹرنری خدمات تک ان کی رسائی کو بہتر بنانا نہ صرف ان کی معاشی حالت کو مضبوط کرے گا بلکہ مجموعی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ویٹرنری شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔ ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل ریکارڈ، اور جدید تشخیصی آلات کے ذریعے دور دراز علاقوں میں بھی بہتر خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔اس کے علاوہ، نجی شعبے کی شمولیت اور عوامی بیداری مہمات بھی اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔مزید یہ کہ جموں و کشمیر میں مویشی بیمہ اسکیموں اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ کسانوں اور مویشی پال حضرات کو غیر یقینی حالات میں مالی تحفظ فراہم ہو سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ویٹرنری انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا جائے، سرد علاقوں کے لیے خصوصی چارہ بینک قائم کیے جائیں اور دیہی سطح پر ویٹرنری مراکز کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے تو اس شعبے میں نمایاں ترقی ممکن ہے، جو نہ صرف مقامی معیشت کو مستحکم کرے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔

جموں و کشمیر میں مویشی پروری اور ویٹرنری شعبے کو فروغ دینے کے لیے متعدد مرکزی و ریاستی اسکیمیں مو¿ثر انداز میں نافذ کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، دودھ و گوشت کی پیداوار میں بہتری اور مویشیوں کی صحت کو یقینی بنانا ہے۔ ان میں راشٹریہ گوکل مشن کے تحت مقامی نسلوں کی بہتری، مصنوعی نسل کشی اور بریڈنگ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جبکہ نیشنل لائیو اسٹاک مشن کے ذریعے بھیڑ، بکری اور پولٹری فارمنگ کو فروغ دے کر دیہی روزگار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ڈائری انٹرپرنرشپ ڈیولپمنٹ اسکیم اور انمل ہسبنڈری انفراسٹریکچر ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت نوجوانوں اور کسانوں کو ڈیری یونٹ، کولڈ چین اور پروسیسنگ سہولیات قائم کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ بیماریوں کی روک تھام کے لیے نیشنل انمل ڈئزیز کںترول پروگرام کے تحت بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہمات چلائی جا رہی ہیں، خاص طور پر فٹ اینڈ ماوتھ ڈیزیز اور بروسیلوسس کے خاتمے کے لیے۔ اس کے علاوہ کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت کو مویشی پال حضرات تک توسیع دے کر انہیں آسان قرضہ فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ موبائل ویٹرنری یونٹس اور 24×7 ہیلپ لائن سروسز کے ذریعے دور دراز علاقوں میں بھی فوری طبی امداد ممکن بنائی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے سبسڈی پر چارہ، فیڈ اور جدید آلات کی فراہمی، خواتین خود مدد گروپس کی شمولیت اور کوآپریٹو ڈیری ماڈل کو فروغ دینے جیسے اقدامات اس شعبے کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں مویشی پروری ایک پائیدار اور منافع بخش پیشہ بنتا جا رہا ہے۔

ویٹرنری شعبے کو مزید جامع اور موثر بنانے کے لیے چند ایسے جدید اور پالیسی سطح کے پہلو ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ناگزیر ہے۔ سب سے اہم تصو”ون ہیلتھ“کا ہے، جس میں انسانی صحت، حیوانی صحت اور ماحولیاتی توازن کو ایک دوسرے سے مربوط سمجھا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر جیسے خطے میں، جہاں دیہی آبادی کا مویشیوں کے ساتھ قریبی تعلق ہے، یہ اپروچ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر زونوٹک بیماریوں کی روک تھام کے لیے ایک مربوط حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ وبا کو ابتدائی سطح پر ہی قابو کیا جا سکے۔اسی طرح ڈیری ویلیو چین کو مضبوط بنانا بھی انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ حالات میں اکثر کسان صرف دودھ کی پیداوار تک محدود رہتے ہیں، جبکہ کولیکشن، کولڈ اسٹوریج، ٹرانسپورٹ، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ جیسے مراحل کمزور ہیں۔ اگر ان تمام مراحل کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو نہ صرف دودھ کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

ڈیجیٹل ویٹرنری سروسز ایک ابھرتا ہوا اور مستقبل کا اہم شعبہ ہے۔ موبائل ایپس، آن لائن مشاورت ، اور ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈ کے ذریعے دور دراز پہاڑی علاقوں میں بھی ویٹرنری سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ بروقت علاج کے ذریعے مویشیوں کے نقصانات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ بھی ایک اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والا پہلو ہے۔ جموں و کشمیر میں برفباری، سیلاب اور شدید سردی جیسے موسمی خطرات مویشیوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتے ہیں۔ اس کے پیش نظر ایمرجنسی ویٹرنری ریسپانس سسٹم، چارہ ذخیرہ اور پیشگی موسمی منصوبہ بندی کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اقدامات کیے جا سکیں۔نوجوانوں کے لیے ویٹرنری اور مویشی پروری کے شعبے میں بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ڈیری فارمنگ، پولٹری، شہد کی مکھیوں کی فارمنگ اور فشریز جیسے شعبے نہ صرف روزگار فراہم کر سکتے ہیں بلکہ کاروباری مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کو تربیت، مالی معاونت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے تو یہ شعبہ ایک مضبوط اقتصادی انجن بن سکتا ہے۔

آخر میں، پالیسی اور بجٹ کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس شعبے کے لیے مختص فنڈز، ان کا مو¿ثر استعمال، اور زمینی سطح پر عمل درآمد کی رفتار انتہائی اہم ہے۔ شفافیت، نگرانی اور عوامی شمولیت کے ذریعے ان پالیسیوں کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف ویٹرنری نظام مضبوط ہوگا بلکہ دیہی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔یہ تمام پہلو مل کر ویٹرنری شعبے کو ایک جدید، مربوط اور پائیدار نظام میں تبدیل کر سکتے ہیں، جو جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

عالمی یومِ ویٹرنری ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جانوروں کی صحت، انسانی صحت اور ماحول ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے خطے میں، جہاں مویشی پروری لاکھوں لوگوں کی زندگی کا حصہ ہے، ویٹرنری خدمات کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس شعبے کو مزید وسائل، تربیت اور توجہ فراہم کی جائے، تاکہ نہ صرف مویشیوں کی صحت بہتر ہو بلکہ انسانی زندگی بھی محفوظ اور خوشحال بن سکے۔یہ دن ویٹرنری ماہرین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع بھی ہے، جو خاموشی سے معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

01/05/2026
قرآن حکیم کی تعلیمات میں ہی انسانی مسائل کا حل

قرآن حکیم کی تعلیمات میں ہی انسانی مسائل کا حل

01/05/2026
وادیِ کشمیر کے مرجھائے پھول: منشیات کی ‘خاموش تباہی

وادیِ کشمیر کے مرجھائے پھول: منشیات کی ‘خاموش تباہی

17/04/2026
مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

نشہ مُکت بھارت امید کی کرن

17/04/2026
مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

حضرتشیخ داؤد ریشی (المعروف بتہ مول) رحمتہ اللہ علیہ وادی میں یکساں مقبول ہیں

17/04/2026
انتخابی مہم کی  سیاسی نفسیات اور  بنکھو وزیر اعلیٰ گانا

100 روزہ سفر نشے کے خلاف عزم، اور نئی زندگی کی جانب ایک روشن قدم

17/04/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »