امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات کریں گے۔ یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین قرار دیا جا رہا ہے اور عالمی سیاست میں اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ بیجنگ پہنچنے پر ٹرمپ کا شاندار سرکاری استقبال کیا گیا۔ ان کے ہمراہ امریکی صنعت و ٹیکنالوجی شعبے کی کئی بڑی شخصیات بھی موجود ہیں جن میں ایلون مسک، ٹم کک، جین سن ہوانگ شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی وفد چین کے ساتھ بڑے تجارتی اور ٹیکنالوجی معاہدوں پر بھی زور دے گا۔
اس دورے میں سب سے اہم موضوع ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ چین ایران پر اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرائے اور تیل کی عالمی سپلائی کو محفوظ بنایا جائے۔ ٹرمپ نے روانگی سے قبل کہا کہ اگر چین ایران بحران کے حل میں مدد کرتا ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، ٹیرف، مصنوعی ذہانت (AI)، تائیوان، نایاب معدنیات، اسلحہ کی فروخت اور بحرالکاہل خطے کی سکیورٹی جیسے حساس معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔
امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک نئی معاشی مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکی وفد چین کے ساتھ بوئنگ طیاروں کے ممکنہ بڑے معاہدے پر بھی گفتگو کرے گا، جبکہ اے آئی اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں تعاون یا پابندیوں میں نرمی پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب تائیوان کے مسئلے پر دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
امریکی اسلحہ فروخت اور بحر جنوبی چین میں امریکی سرگرمیوں پر چین مسلسل ناراضی ظاہر کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن چین کے روس اور ایران کے ساتھ تعلقات پر تشویش رکھتا ہے۔ چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس دورے کے دوران سرکاری ضیافت، خصوصی استقبالیہ اور تاریخی مقامات کا دورہ بھی شامل ہوگا۔ مبصرین کے مطابق یہ ملاقات عالمی سیاست، معیشت اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے.






