ڈیسک رپورٹ/کاشف قمر
بھارت میں ہندوتوا نظریے کی سب سے طاقتور نمائندہ قوت اور بااثر ہندو قوم پرست و سماجی تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کے جنرل سیکرٹری دتا تریہ ہوسابالے نے خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا(پی ٹی آئی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر و ایڈیٹر اِن چیف وجے جوشی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پاکستان، ہندوتوا، اقلیتوں، بین المذاہب تعلقات، ہندوستان کی تہذیبی شناخت اور عالمی سطح پر آر ایس ایس کے کردار پر تفصیلی اظہار خیال کیاہے۔
واضح رہے آر ایس ایس کو موجودہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ تنظیم کے لاکھوں کارکن ہندوستان بھر میں’’شاخاؤں‘‘ کے ذریعے سرگرم ہیں اور تعلیم، سماجی خدمت، طلبہ سیاست اور مذہبی امور سمیت مختلف شعبوں میں اس کا اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔
آر ایس ایس کےجنرل سیکرٹری کے اس انٹرویو کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کیونکہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ہوسابالے اپنے حالیہ امریکی دورے سے واپس آئے ہیں، جہاں انہوں نے مختلف تھنک ٹینکس، بھارتی نژاد تنظیموں، دانشوروں اور پالیسی حلقوں سے ملاقاتیں کیں۔
پاکستان کے ساتھ تعلقات: سختی بھی، مکالمہ بھی
ہوسابالے نے پی ٹی آئی کو دئے گئےانٹرویو میںکہا ہےکہ پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی، عسکریت پسندی اور اشتعال انگیزی پر ہندوستان کو’’فیصلہ کن اور سخت‘‘رویہ اختیار کرنا چاہیے، لیکن اس کے باوجود سفارتی مکالمے کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی لاہور بس یاترا اور ماضی کی امن کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی روایت رہی ہے کہ جنگی حالات میں بھی مذاکرات کے امکانات کو ختم نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق:’’قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، لیکن مکالمہ مکمل طور پر بند کر دینا بھی دانشمندانہ پالیسی نہیں۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے عوام، دانشور، ادیب، طلبہ اور سماجی کارکن باہمی رابطے بڑھا کر کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہندوستان ہمیشہ سے ہندو راشٹر رہا ہے
ہوسابالے نے انٹرویو میں آر ایس ایس کے بنیادی نظریاتی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کوئی نیا’’ہندو راشٹر‘‘ نہیں بنایا جا رہا بلکہ یہ تہذیبی طور پر ہمیشہ سے ہندو راشٹر رہا ہے۔ انہوں نے کہا:’’ہندو‘‘ ایک تہذیبی شناخت ہے؛ مذہب تبدیل ہونے سے قومیت تبدیل نہیں ہوتی؛اور مسلمان، عیسائی و دیگر طبقات بھی اسی تہذیبی روایت کا حصہ ہیں۔
خیال رہےآر ایس ایس کے مطابق’’سناتن تہذیب‘‘ ہندوستان کی قومی شناخت کی بنیاد ہے، جبکہ ناقدین اسے ہندوستان کے سیکولر آئینی ڈھانچے کے منافی قرار دیتے ہیں۔
بین المذاہب شادی اور’’لو جہاد‘‘
ہوسابالے نے بین المذاہب شادیوں کے موضوع پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر دو افراد’’خالص محبت‘‘ کی بنیاد پر شادی کریں تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے، لیکن اگر اس کے پیچھے کسی قسم کی منظم مذہبی مہم ہو تو سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
یہ بیان آر ایس ایس اور ہندوتوا تنظیموں کے اُس مؤقف سے ہم آہنگ سمجھا جا رہا ہے جسے عام طور پر ’’لو جہاد‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اقلیتیں، مذہبی آزادی اور عالمی تنقید
ہوسابالے نےاپنے انٹرویو میں اس تاثر کو مسترد کیا کہ ہندوستان میں اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق: ہندوستان میں سب شہری برابر ہیں؛ آئین تمام مذاہب کو مساوی حقوق دیتا ہے؛ اورآر ایس ایس مختلف مذاہب کے لوگوں سے مسلسل رابطے میں رہتی ہے۔
یاد رہے بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیمیں اور امریکی مذہبی آزادی سے متعلق ادارے گزشتہ چند برسوں سے ہندوستان میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے حالات پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں ہوسابالے کا حالیہ امریکی دورہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
آر ایس ایس کی عالمی حکمت عملی
سیاسی مبصرین کے مطابق ہوسابالے کا امریکی دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آر ایس ایس اب صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سطح پر اپنی شبیہ بہتر بنانے اور نظریاتی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق اس نئی حکمت عملی کا محور یہ ہے کہ مغرب میں آر ایس ایس کے خلاف موجود خدشات کم کرنا، بھارتی تارکین وطن کو نظریاتی طور پر متحرک کرنا، عالمی تھنک ٹینکس میں ہندوتوا بیانیہ پیش کرنا، انسانی حقوق سے متعلق تنقید کا جواب دینا اوربھارت کو’’سناتنی تہذیب‘‘ کی عالمی نمائندہ طاقت کے طور پر پیش کرنا شامل ہے۔
دتا تریہ ہوسابالے کا حالیہ امریکی دورہ:
امریکہ میں آر ایس ایس کی’’امیج بلڈنگ‘‘ مہم
حال ہی میں آر ایس ایس جنرل سیکرٹری نے امریکہ کا ایک اہم دورہ کیا جہاں انہوں نے واشنگٹن، نیویارک، ہیوسٹن اور دیگر شہروں میں بھارتی نژاد کمیونٹی، اکیڈمک حلقوں، پالیسی ماہرین اور مختلف تنظیموں سے ملاقاتیں کیں۔اُ ن کایہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا جب امریکہ میں مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹس میں ہندوستان پر تنقید بڑھ رہی ہے جن میں آر ایس ایس کو عالمی میڈیا میں’’ہندو قوم پرست‘‘ تنظیم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ہوسابالے نے امریکی دورے کے دوران مختلف اجتماعات میں کہا کہ آر ایس ایس کو’’غلط انداز‘‘ میں پیش کیا جاتا ہے اور تنظیم دراصل ’’سماجی خدمت، ثقافتی بیداری اور قومی اتحاد‘‘کے لیے کام کرتی ہے۔
تھنک ٹینکس اور پالیسی حلقوں سے ملاقاتیں
میڈیا خبروں کے مطابق ہوسابالے نے امریکہ میں متعدد پالیسی اداروں، یونیورسٹی حلقوں اور بھارتی نژاد دانشوروں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ہندوستان کا اُبھرتا عالمی کردار، چین اور جنوبی ایشیا کی سیاست، مذہبی آزادی اور عالمی تنقید، ہندوستانی جمہوریت اور قوم پرستی اور بھارتی تارکین وطن کا کردار جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔
انہوں نے امریکی حلقوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ آر ایس ایس کو صرف’’سیاسی یا انتہا پسند‘‘ زاویے سے دیکھنا درست نہیں بلکہ یہ ایک سماجی اور تہذیبی تحریک ہے۔
کشمیر اور جنوبی ایشیا کے تناظر میں اہمیت
کشمیر اور جنوبی ایشیا کے سیاسی حلقوں میں اس انٹرویو اور امریکی دورے کو خصوصی توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس کو موجودہ حکمران جماعت بی جے پی کی نظریاتی بنیاد تصور کیا جاتا ہے، اس لیے ہوسابالے کے بیانات کو مستقبل کی پالیسی سمت کا اشارہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آر ایس ایس داخلی سطح پر سخت قوم پرستانہ مؤقف برقرار رکھنا چاہتی ہے لیکن عالمی سطح پر نسبتاً نرم اور سفارتی زبان اختیار کر رہی ہے۔ پاکستان کے معاملے میں ’’سختی اور مکالمہ‘‘کی دوہری پالیسی سامنے آ رہی ہے، وہیں امریکہ اور مغرب میں امیج بہتر بنانے کی منظم کوششیں بھی کی جاری ہیں۔
اسی لیے ہوسابالے کا یہ انٹرویو محض ایک میڈیا گفتگو نہیں بلکہ آر ایس ایس کی بدلتی عالمی اور علاقائی حکمت عملی کی عکاسی بھی سمجھا جا رہا ہے۔





