سری نگر، 17 مئی: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور محبوبہ مفتی نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جامع مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کا آغاز جموں و کشمیر کے عوام سے ہونا چاہیے۔
سری نگر میں پارٹی کارکنان کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے آر ایس ایس کے ایک سینئر رہنما کی جانب سے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی حمایت کو خوش آئند قرار دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف نئی دہلی اور اسلام آباد تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا، “بات چیت کشمیر سے شروع ہونی چاہیے، جموں و کشمیر کے عوام یہی مطالبہ کر رہے ہیں۔”
پی ڈی پی صدر نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر اعتماد سازی کے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے اُڑی-مظفرآباد اور راولاکوٹ کے درمیان تجارتی و سفری راستے دوبارہ کھولنے کی اپیل کی۔ انہوں نے این ایچ پی سی کے زیر انتظام بجلی منصوبوں کی واپسی اور فوجی موجودگی میں کمی کا بھی مطالبہ کیا۔
محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم مودی سے مسئلہ کشمیر کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے سیاسی جرات کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے 2015 میں وزیر اعظم مودی کے لاہور دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ امن کے لیے بڑے فیصلے لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے یو اے پی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) جیسے سخت قوانین واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ کشمیر کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب انہیں سکون سے جینے کا حق ملنا چاہیے۔
محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ کشمیر کے عوام پاکستان، چین اور وسطی ایشیا کے ساتھ روابط چاہتے ہیں، اس لیے راستے کھولے جائیں اور علاقائی رابطہ بحال کیا جائے۔




