امت نیوز ڈیسک //
جمعیت علمائے ہند کے صدر مولونا ارشد مدنی کی قیادت میں منعقدہ جمعیۃ علمائ ہند کی دو روزہ ورکنگ کمیٹی میٹنگ میں ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، آئینی اداروں کی خاموشی اور مسلمانوں و اسلامی شعائر کے خلاف اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے ب میں ارشد مدنی نے کہا کہ ملک میں نفرت کی سیاست، مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے اقدامات اور آئینی اداروں کی خاموشی باعثِ تشویش ہے، تاہم مسلمان کبھی جھکے نہیں اور نہ ہی ظلم و دباؤ کے آگے جھکیں گے۔علامیے کے مطابق نفرت پر مبنی سیاست اب دھمکی کی سیاست میں تبدیل ہو چکی ہے، جس کا مقصد مسلمانوں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں مخصوص سماجی و سیاسی حالات قبول کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ یونیفارم سول کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش اور ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دینے، مساجد و مدارس کے خلاف کارروائیوں اور ووٹنگ حقوق سے متعلق اقدامات کو ایک بڑی منصوبہ بندی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک کے سیکولر اور آئینی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔جمعیۃ علمائ ہند نے واضح کیا کہ وہ ان اقدامات کے خلاف قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔





