صحافت ایک وسیع میدان ہے یہ ادب بھی ہے، ہنر بھی، عبادت بھی، ایک صفت بھی اور ایک بڑی ذمے داری بھی یہ معاشرے میں موجود حالات و واقعات سے آگاہ کرتی ہے اور ہمیں اچھی بری خبریں اور معلومات پہنچاتی ہے جب سماج میں بگڑے ہوئے حالات ہوں یا ملک کی ترقی و کامیابی کی خبریں سامنے آئیں یا کوئی سنسنی خیز واقعہ پیش آئے، تو صحافت ہی ہے جو معاشرے کو باخبر رہنے کی تلقین کرتی ہے تاکہ ہم اپنی آنکھوں دماغ ہاتھوں اور زبان کا درست استعمال کر سکیں اور بہتری کی طرف رجوع کریں
ایک صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانون اور ادب کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے۔ مگر افسوس کہ آج کل بعض افراد جیسے مسٹر ندیم، مسٹر ارشاد بھٹی اور مس فضا،بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں، جو صحافت جیسے خوبصورت شعبے کو عریانیت کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی کی ذاتی زندگی کو اچھالنا یا نامناسب الفاظ کا استعمال کرنا صحافت کا اصول نہیں ہے۔
صحافت جھوٹ، مکاری اور جلد بازی کی بنیاد پر قائم نہیں کی جا سکتی، بلکہ سچ، حقیقت، صبر اور تحمل کے ساتھ معاشرے کی بہتری کے لیے انجام دی جاتی ہے۔ صحافی ایک ادبی میزبان اور اداکار کی مانند ہوتا ہے، جس کے پاس آنے والے مہمان کی عزت و آبرو کی حفاظت اس کی اولین ذمہ داری ہے، نہ کہ چند پیسوں کی خاطر ان کی عزت کو مجروح کرنا۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر انسان کے دامن میں کوئی نہ کوئی کمزوری چھپی ہوتی ہے؛ مگر صحافی کسی کا ماضی اچھال کر اپنا حال سنوار نہیں سکتا، بلکہ اس طرح وہ اپنا مستقبل داغدار کر لیتا ہے اور عوام کی نظروں سے گر جاتا ہے۔ عوام جس صحافی کو عزت و احترام دیتی ہے، وہی اگر غلط بیانی کرے تو نظر انداز بھی کر دیتی ہے۔
انٹرنیٹ کے اس دور میں تقریباً ہر شخص پوڈکاسٹر بن چکا ہے۔ لوگ گھروں میں بیٹھ کر معروف شخصیات کو بلا کر ان کی شخصیت کو مجروح کرتے نظر آتے ہیں، اور یوں صحافت کی تاریخ، آزادیٔ اظہار، اور تعلیم و تربیت کے اصولوں کو انتہائی پست سطح پر پہنچا دیتے ہیں۔ ایسے میں نئے ابھرتے صحافی کب زوال کا شکار ہو جاتے ہیں، اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
آج صحافت بعض جگہوں پر غیبت کا اڈا بنتی جا رہی ہے، جہاں مسائل کم اور افراد کا مذاق زیادہ اڑایا جاتا ہے۔ کیا فضا علی جیسے افراد نے ادب، ثقافت، تہذیب و تمدن کی کوئی نشانی باقی رکھی ہے؟ ہم پوری دنیا میں ایسے لوگوں کو سنتے ہیں اور
نادانستہ طور پر انہیں مزید حوصلہ دیتے ہیں کہ وہ اس عظیم شعبے کو سستے داموں فروخت کریں۔
اسی طرح کچھ مشہور کاسٹر ایسے ہیں جو تہذیب کو پسِ پشت ڈال چکے ہیں۔ وہ ہر سوال کے ساتھ طنز، تضحیک اور بعض اوقات گالی تک دے دیتے ہیں، اور سامنے والے کو بات کرنے کا موقع بھی نہیں دیتے۔ جب فنکار غرور میں آتا ہے تو سب سے پہلے اس کا لہجہ اور زبان بدلتی ہے، جو بالآخر نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
اگر ہم اخبار کی طرف دیکھیں تو وہاں ہر خبر سلیقے، قرینے اور حکمت کے ساتھ شائع ہوتی ہے۔ اخبار پڑھنے سے ذہن کو تازگی ملتی ہے اور قاری حالات سے باخبر ہوتا ہے۔ اخبار میں شائع ہونے والی ہر خبر ادب اور تہذیب کے دائرے میں رہتی ہے، جہاں لکھنے والوں کی محنت، لگن اور سنجیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ وہ ہر لفظ کو تول کر لکھتے ہیں اور عنوان کو بھی خاص اہمیت دیتے ہیں۔
اخبار پڑھنے والا نہ بوکھلاتا ہے اور نہ ہی اس میں فتنہ و فساد کی گنجائش رہتی ہے، جبکہ انٹرنیٹ پر غیر ذمہ دارانہ گفتگو عام انسان کو اذیت دیتی ہے اور ردِعمل میں مزید بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
صحافت ایک سماجی اور تہذیبی ذمے داری ہے، مگر جلد بازی میں اکثر لوگ تحقیق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جناب سر سید احمد خان نے صحافت کو ایک خدمت قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ صحافی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو مشورہ دینے والا،
دوسرا وہ جو تربیت کرنے والا، اور تیسرا وہ جو معاشرے کی اصلاح کرنے والا ہوتا ہے۔
بہتر ہے کہ اخبار کو صبح کی چائے کے ساتھ پڑھا جائے، شاید ہمارے ذہن کو تازہ ہوا کا احساس مل سکے۔ورنہ…







