امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 16 جون : پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے منگل کو انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ روایتی عاشورہ جلوسوں کی اجازت دی جائے اور ایران سے متعلق حالیہ واقعات کے خلاف مظاہروں میں شرکت کے الزام میں پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت گرفتار کیے گئے نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ محرم صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے روحانی، ثقافتی اور تاریخی ورثے کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نسلوں سے لوگ امام حسینؑ کی شہادت کی یاد میں منعقد ہونے والی مجالس اور جلوسوں میں شرکت کرتے آئے ہیں۔
انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ عزاداروں کے لیے ٹریفک نظم و نسق، صحت کی سہولیات، صفائی، پینے کے پانی، بجلی اور دیگر ضروری خدمات کے مناسب انتظامات کیے جائیں تاکہ مذہبی اجتماعات اور جلوس پُرامن اور منظم انداز میں منعقد ہو سکیں۔
محبوبہ مفتی نے ان اطلاعات پر تشویش ظاہر کی کہ متعدد نوجوانوں کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کرکے جموں و کشمیر سے باہر کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات "انتہائی تشویشناک” ہیں اور اس سے نوجوانوں میں مزید احساسِ بیگانگی پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’مقدس ماہِ محرم کے دوران نوجوانوں کے خلاف سخت قوانین کا استعمال نہ صرف غیر حساس رویہ ہے بلکہ اس کے منفی نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ محرم غور و فکر، ہمدردی اور مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیتا ہے، لہٰذا حکومت کو لوگوں کے تحفظات دور کرنے اور ان سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ تعزیری اقدامات کا سہارا لینا چاہیے۔
انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام معاملات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، زیرِ حراست افراد کو رہا کیا جائے اور مزید سخت کارروائیوں سے گریز کیا جائے۔
محبوبہ مفتی نے عاشورہ جلوسوں اور دیگر روایتی محرم تقریبات کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذہبی جلوس خطے کے ثقافتی اور روحانی ورثے کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں پُرامن اور باوقار انداز میں منعقد کرنے میں سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’محرم قربانی، صبر اور یادِ شہادت کا مہینہ ہے۔ امام حسینؑ کی تعلیمات آج بھی لوگوں کو انصاف، ہمدردی اور انسانی وقار کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتی ہیں۔‘‘
آخر میں محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ محرم الحرام کو صبر، اتحاد، باہمی احترام اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کے ساتھ منائیں اور واقعۂ کربلا کے آفاقی پیغام کو یاد رکھیں۔






