امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 15 جون: پی ڈی پی صدر نے پیر کے روز عوامِ کشمیر سے اپیل کی کہ وہ آنے والی امرناتھ یاترا کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ اور وادی کے بارے میں پھیلائے جانے والے منفی تاثر کو ختم کرنے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھیں۔
پہلگام، جو سالانہ امرناتھ یاترا کے اہم بیس کیمپوں میں شمار ہوتا ہے، میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر آنے والا ہر امرناتھ یاتری یہاں کا مہمان ہے اور وہ واپس جا کر ملک کے مختلف حصوں میں کشمیر کے لوگوں، ثقافت اور روایات کا پیغام پہنچاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہر امرناتھ یاتری کشمیر کا مہمان ہے۔ وہ ہمارے علاقے، ہمارے لوگوں اور ہماری اقدار کی کہانی پورے بھارت تک لے جاتا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں سے محبت، خلوص اور مہمان نوازی کی خوشگوار یادیں لے کر جائے۔‘‘
محبوبہ مفتی نے کہا کہ امرناتھ یاترا کی حفاظت صرف سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ کشمیر کے عوام کی بھی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی نفرت، تقسیم اور بداعتمادی کے ماحول میں یہ یاترا لوگوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے، باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور دلوں کو قریب لانے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔
پی ڈی پی سربراہ کے مطابق یاتری کشمیر میں اپنے تجربات کو اپنے اہل خانہ اور برادریوں تک پہنچاتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ ہر ملاقات کشمیر کی مہمان نوازی، رواداری، ہمدردی اور بقائے باہمی کی روایات کو اجاگر کرنے کا موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر اور مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں اور تعصبات کا مؤثر جواب خلوص، محبت اور مہمان نوازی کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے یاترا میں مقامی لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امرناتھ یاترا ایک ایسا عمل ہونا چاہیے جسے مقامی سطح پر تعاون اور تحفظ حاصل ہو اور جو کشمیر کی حقیقی روح اور عوامی اقدار کی عکاسی کرے۔
واضح رہے کہ سالانہ امرناتھ یاترا آئندہ ماہ شروع ہونے والی ہے، جس کے لیے انتظامیہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر سکیورٹی اور دیگر انتظامات کیے جا رہے ہیں۔






