امت نیوز ڈیسک //
عوامی اتحاد پارٹی نے بارہمولہ سے منتخب رکنِ پارلیمان انجینئر رشید کی جانب سے لوک سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے اظہارِ خیال پر اپنے زمینی سطح کے کارکنوں اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی کے چیف ترجمان انعام النبی نے ایک بیان میں کہا کہ اے آئی پی کی کمیٹی برائے سیاسی امور نے اس معاملے پر تفصیلی غور و خوض کیا اور فیصلہ لیا کہ بارہمولہ پارلیمانی حلقے کے تمام 18 اسمبلی حلقوں میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے وسیع پیمانے پر رائے لی جائے گی۔
انعام النبی کے مطابق، "کمیٹی برائے سیاسی امور نے معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد یہ طے کیا ہے کہ دو روزہ مشاورتی عمل کے دوران پارٹی کے مختلف سطحوں کے عہدیدار اس بات پر غور کریں گے کہ آیا انجینئر رشید کو رکنِ پارلیمان کے طور پر اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنی چاہئیں یا پھر وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر پارٹی اپنے کارکنوں کے درمیان خفیہ رائے شماری بھی کروا سکتی ہے تاکہ ہر رکن بلا کسی دباؤ کے اپنی رائے کا اظہار کر سکے۔
ترجمان کے مطابق پنچایت اور بلاک سطح کے پارٹی عہدیدار عام لوگوں اور معاشرے کے مختلف طبقات سے رابطہ کر کے ان کی آراء حاصل کریں گے۔ بعد ازاں جو حتمی رائے مرتب کی جائے گی، وہ عوامی مشاورت کے دوران سامنے آنے والے جذبات اور خواہشات کی عکاس ہوگی۔
انعام النبی نے کہا کہ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انجینئر رشید کے سیاسی مستقبل سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ان لوگوں کی خواہشات اور توقعات کے مطابق ہو جنہوں نے انہیں اور پارٹی کو بھرپور اعتماد کے ساتھ مینڈیٹ دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مشاورتی عمل اور ممکنہ رائے شماری کے نتائج باضابطہ طور پر انجینئر رشید تک پہنچائے جائیں گے تاکہ وہ اس معاملے پر باخبر اور مناسب فیصلہ کر سکیں۔
بیان کے اختتام پر انعام النبی نے پارٹی کے اندر جمہوری اقدار اور عوامی جوابدہی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی پی کا ماننا ہے کہ اہم فیصلے کارکنوں اور عوام کی اجتماعی دانش اور رائے کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔






