کشمیر کی سرزمین ہمیشہ علم، روحانیت، اعتدال اور اخوت کی علامت رہی ہے۔ یہاں کے دینی مراکز، خانقاہیں اور مساجد نے صدیوں تک معاشرے کو اخلاق، رواداری اور انسان دوستی کا درس دیا۔ مگر افسوس کہ گزشتہ کچھ عرصہ میں مذہبی حلقوں میں ایک ایسا رجحان بھی فروغ پایا ہے جس نے دین کی اصل روح کو پس منظر میں دھکیل کر مناظرانہ کشمکش، گروہی عصبیت اور ذاتی مفادات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مناظرہ اپنی اصل میں کوئی مذموم عمل نہیں۔ اگر اس کا مقصد حق کی وضاحت، علمی تحقیق اور فکری رہنمائی ہو تو اسلامی علمی روایت میں اس کی اپنی اہمیت ہے۔ لیکن جب مناظرہ علم کی خدمت کے بجائے شہرت، گروہی برتری، مخالفین کی تحقیر اور سامعین کی داد سمیٹنے کا ذریعہ بن جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ آج سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے، جہاں چند منٹ کی ویڈیو اور جذباتی خطابت کو علمی استدلال پر فوقیت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔
اسی تناظر میںعلماءِ سوء کا تصور بھی قابلِ غور ہے۔ اسلامی لٹریچر میں علماءِ سوء سے مراد وہ افراد ہیں جو علمِ دین کو اللہ کی رضا اور معاشرے کی اصلاح کے بجائے دنیاوی مفادات، اقتدار، دولت یا ذاتی شہرت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر اختلاف رکھنے والا یا ہر عالم اس زمرے میں نہیں آتا، لیکن جب دینی منصب ذاتی مفادات کی نذر ہو جائے تو معاشرے کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور دین کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
کشمیر کا موجودہ سماجی اور مذہبی منظرنامہ اسی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف نوجوان نسل فکری انتشار، بے روزگاری، منشیات، اخلاقی زوال اور تعلیمی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، دوسری طرف بعض مذہبی حلقے معمولی فقہی اختلافات، مسلکی مناظروں اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام بجا طور پر یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اُمت کے اصل مسائل یہی ہیں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء، ائمہ، خطباء اور دینی ادارے اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ مساجد کو اختلافات کی آماجگاہ بنانے کے بجائے انہیں اصلاحِ معاشرہ، اخلاقی تربیت، نوجوانوں کی رہنمائی، خاندانی استحکام، تعلیم، خدمتِ خلق اور اتحادِ اُمت کا مرکز بنایا جائے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر اس کا اظہار حکمت، احترام اور علمی دیانت کے ساتھ ہونا چاہیے۔
عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بلند آواز مقرر کو عالمِ حق نہ سمجھیں۔ دین کے نام پر نفرت، تذلیل اور تقسیم پیدا کرنے والوں کے بجائے ان علماء کی قدر کریں جو اپنے کردار، علم، اعتدال اور اخلاص سے معاشرے کی تعمیر کر رہے ہیں۔ قرآن کریم اور سنتِ نبویؐ نے علم کے ساتھ تقویٰ، دیانت اور اخلاق کو لازم قرار دیا ہے۔ یہی اوصاف کسی عالم کی اصل پہچان ہیں، نہ کہ خطابت کا جوش یا مناظرے میں فتح کا دعویٰ۔
کشمیر کو آج ایسے علماء کی ضرورت ہے جو اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں، جو نوجوانوں کو اُمید دیں، جو معاشرے کو جوڑیں نہ کہ توڑیں، اور جو دین کو سیاست، مفاد اور شہرت کے ہنگاموں سے نکال کر اس کی اصل روح، یعنی رحمت، حکمت اور اصلاحِ انسانیت کے ساتھ پیش کریں۔






