کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان تعلیم، شعور، اخلاق اور صحت کے زیور سے آراستہ ہوں تو قوم ترقی کی منازل طے کرتی ہے، لیکن اگر یہی نوجوان منشیات جیسی لعنت کا شکار ہو جائیں تو معاشرے کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح ہمارے معاشرے کو بھی منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کا چیلنج درپیش ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان، معاشرے اور قوم کو متاثر کرتا ہے۔
نشہ انسان کی عقل، شعور، کردار اور صحت کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایک باصلاحیت نوجوان جو مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر، استاد، ادیب یا سائنس دان بن سکتا ہے، نشے کی لت میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی کو اندھیروں کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ محض ایک انتظامی مہم نہیں بلکہ ایک سماجی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔
عزت مآب لفٹیننٹ گورنر جناب شری منوج سنہا صاحب کی جانب سے شروع کی گئی سو روزہ نشہ مکت مہم بہتر، صحت مند اور خوشحال جموں و کشمیر کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ اس مہم کا مقصد صرف منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ عوام میں شعور بیدار کرنا، نوجوان نسل کو محفوظ بنانا اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرنا ہے جہاں صحت مند طرز زندگی کو فروغ حاصل ہو۔
اس مہم کی کامیابی میں سول انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ نے قابل ستائش کردار ادا کیا ہے۔ مختلف اضلاع میں آگاہی پروگرام منعقد کیے گئے، تعلیمی اداروں میں سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا، نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں انجام دیں۔ یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اور انتظامیہ اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس سلسلے میں خصوصی کردار ادا کیا ہے۔ پولیس اہلکار صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے کے طور پر ہی نہیں بلکہ سماجی اصلاح کار کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں۔ مختلف مقامات پر منعقد ہونے والی بیداری مہمات، عوامی رابطہ پروگرام اور نوجوانوں کے ساتھ مکالمے اس بات کی مثال ہیں کہ پولیس عوام کو اس لعنت سے بچانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
سول انتظامیہ نے بھی اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھایا ہے۔ مختلف محکموں نے باہمی تعاون کے ذریعے عوام تک یہ پیغام پہنچایا کہ منشیات سے پاک معاشرہ ہی ترقی یافتہ معاشرہ ہوتا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں منعقد ہونے والی تقریبات نے نوجوانوں میں مثبت سوچ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کسی بھی مہم کی کامیابی صرف سرکاری اداروں کی کوششوں سے ممکن نہیں ہوتی۔ عوامی شرکت اور تعاون اس کی روح ہوتی ہے۔ اگر معاشرے کے لوگ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، اپنے گھروں اور محلوں میں بیداری پیدا کریں اور نوجوانوں کی رہنمائی کریں تو منشیات کے خلاف جدوجہد زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
ہر ذی شعور اور ذی حس انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مہم کا حصہ بنے۔ والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، اساتذہ طلبہ کی کردار سازی میں اپنا کردار ادا کریں، سماجی کارکن آگاہی مہمات میں حصہ لیں اور مذہبی و ادبی شخصیات معاشرے کو مثبت پیغام دیں۔ جب پوری قوم ایک مقصد کے لیے متحد ہو جائے تو کوئی چیلنج بڑا نہیں رہتا۔
اسلامی تعلیمات بھی نشے سے مکمل اجتناب کا درس دیتی ہیں۔ دین اسلام میں ہر وہ چیز حرام قرار دی گئی ہے جو انسان کی عقل و شعور کو متاثر کرے، جسم و جان کو نقصان پہنچائے یا معاشرے میں بگاڑ پیدا کرے۔ رسول اکرم ﷺ نے واضح فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ یہی تعلیم انسان کو پاکیزگی، اعتدال اور صحت مند زندگی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس لیے منشیات سے دور رہنا نہ صرف ایک سماجی ضرورت ہے بلکہ دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
منشیات صرف جسمانی بیماریوں کا سبب نہیں بنتیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی مسائل کو بھی جنم دیتی ہیں۔ نشے کا عادی شخص اکثر تنہائی، مایوسی، بے چینی اور دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے اثرات خاندان پر بھی پڑتے ہیں اور گھریلو تنازعات، مالی مشکلات اور سماجی مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نشہ مکت معاشرے کی تشکیل ایک اجتماعی ضرورت ہے۔
ادب، تعلیم، کھیل اور ثقافتی سرگرمیاں نوجوانوں کو مثبت سمت فراہم کرتی ہیں۔ جب نوجوان اپنی توانائیاں تعمیری سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں تو ان کے لیے منفی راستوں پر چلنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو کتاب، قلم، کھیل کے میدان اور تخلیقی سرگرمیوں سے جوڑا جائے۔
آج جموں و کشمیر ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ترقیاتی منصوبے، تعلیمی مواقع اور روزگار کے امکانات نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھول رہے ہیں۔ ایسے وقت میں منشیات کے خلاف جنگ مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے کیونکہ ایک صحت مند نوجوان ہی ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
سو روزہ نشہ مکت مہم دراصل ایک ایسی اجتماعی تحریک ہے جس کا مقصد آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل فراہم کرنا ہے۔ اس مہم کو کامیاب بنانا صرف سول انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری، ہر والدین، ہر استاد، ہر سماجی کارکن اور ہر نوجوان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آئیں ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم منشیات کے خلاف اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں گے، اپنے معاشرے میں شعور پیدا کریں گے اور ایک ایسے جموں و کشمیر کی تعمیر میں حصہ لیں گے جو صحت مند، خوشحال، تعلیم یافتہ اور نشے کی لعنت سے پاک ہو۔
نشہ مکت جموں و کشمیر صرف ایک خواب نہیں بلکہ ایک ایسا مقصد ہے جسے اجتماعی شعور، مشترکہ کوششوں اور مضبوط عزم کے ذریعے حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔







