امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 28 جون: جموں و کشمیر حکومت نے بیک ڈور بھرتیوں سے متعلق اپوزیشن، بالخصوص پی ڈی پی، کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں تمام تقرریاں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی ہدایت پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ حکومت کی روزگار پالیسی کو جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت نے ایک بھی بیک ڈور تقرری نہیں کی اور اپوزیشن اگر اپنے دعوؤں میں سچی ہے تو اس کے ثبوت عوام کے سامنے پیش کرے۔
ناصر اسلم وانی نے کہا کہ بھرتیوں اور آؤٹ سورسنگ کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا گمراہ کن ہے، کیونکہ دونوں الگ الگ انتظامی عمل ہیں۔
وزیر سکینہ ایتو نے کہا کہ مستقل سرکاری تقرریاں صرف جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ (JKSSB) اور جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (JKPSC) کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آؤٹ سورسنگ محض ایک عارضی انتظامی طریقہ کار ہے، جسے مختلف مرکزی اسپانسرڈ اسکیموں کے تحت اپنایا جاتا ہے، اور اسے سرکاری ملازمت تصور نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے پی ڈی پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آؤٹ سورسنگ کی پالیسی ان ہی کے دورِ حکومت میں متعارف کرائی گئی تھی، جبکہ 25 ہزار بیک ڈور تقرریوں کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت موجود ہے تو وہ عوام کے سامنے پیش کریں۔
وزیر جاوید احمد ڈار نے بھی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آؤٹ سورسنگ پورے ملک میں ایک انتظامی ضرورت کے طور پر رائج ہے اور موجودہ حکومت صرف سابق حکومت کی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو آؤٹ سورسنگ اور مستقل بھرتیوں کے درمیان فرق کو سمجھنا چاہیے اور بے بنیاد پروپیگنڈے سے گریز کرنا چاہیے۔



