امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 8 جولائی: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ ریاستی درجہ (اسٹیٹ ہُڈ) کی بحالی میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور مرکزی حکومت کو اس سلسلے میں فوری فیصلہ کرنا چاہیے۔
سرینگر میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 170 نمائندوں، جن میں مذہبی رہنما، تاجر، ریٹائرڈ افسران، ماہرینِ تعلیم اور ٹرانسپورٹ شعبے کے نمائندے شامل تھے، کے اجلاس میں متفقہ طور پر ریاستی درجہ کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کو بلا تاخیر ریاستی درجہ بحال کرنے کی اپیل کی گئی۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر میں نیشنل کانفرنس کے مجوزہ احتجاج کو سول سوسائٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ احتجاج میں شرکت کی دعوت جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو دی جائے گی، چاہے وہ اس وقت اسمبلی میں نمائندگی رکھتی ہوں یا ماضی میں رکھ چکی ہوں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سمیت عام آدمی پارٹی، شرومنی اکالی دل، بیجو جنتا دل اور بہوجن سماج پارٹی کو بھی خطوط ارسال کریں گے۔
سرکاری تقرریوں سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ڈاکٹروں، اساتذہ اور لیکچراروں کی آسامیوں کو پُر کرنے میں پہلے کے مقابلے زیادہ وقت لگ رہا ہے کیونکہ پولیس تصدیق اور دیگر جانچ کا عمل طویل ہو گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تقرری کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں اور جلد ہی ان پر عمل درآمد ہوگا۔
ایک استاد پر مشتمل 1,544 سرکاری اسکولوں کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اعداد و شمار پرانی یو ڈائس رپورٹ پر مبنی ہیں اور موجودہ صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔
بھاری بارشوں کے باعث چناب خطے اور کٹھوعہ کی صورتحال پر انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ان سے رابطہ کیا اور زمینی حالات سے متعلق معلومات حاصل کیں، جس پر انہوں نے انہیں مکمل بریفنگ دی۔
دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کی معطلی سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی جماعت پہلے بھی اس معاہدے کی مخالف رہی ہے، تاہم وہ اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے۔
شری امرناتھ یاترا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے یومیہ یاتریوں کی تعداد کے تعین سے متعلق ہدایات شرائن بورڈ کے لیے لازمی ہیں۔ برف سے قدرتی طور پر بننے والے شیو لنگم کے جلد پگھلنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ قدرت کا معاملہ ہے اور اس پر کسی کا اختیار نہیں۔






