امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری کو خط لکھ کر قومی شاہراہ کا موجودہ راستہ بیروہ قصبے سے برقرار رکھنے اور مجوزہ بائی پاس منصوبہ ترک کرنے کی اپیل کی ہے۔
محبوبہ مفتی نے اپنے خط میں کہا کہ بیروہ سول سوسائٹی، ٹریڈ فیڈریشن، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور دیگر نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی بائی پاس سڑک بنانے کے بجائے موجودہ شاہراہ کو ہی اپ گریڈ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سڑک سب ڈسٹرکٹ اسپتال، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر، بینکوں، بازاروں اور دیگر اہم عوامی خدمات کو آپس میں جوڑتی ہے۔ اگر بائی پاس تعمیر کیا گیا تو تجارتی سرگرمیاں قصبے سے منتقل ہو جائیں گی، جس سے اس شاہراہ پر کاروبار سے وابستہ دو ہزار سے زائد خاندانوں کا روزگار متاثر ہوگا۔
محبوبہ مفتی نے بیروہ کو وسطی کشمیر کا اہم تجارتی اور انتظامی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ راستے کی توسیع سے سری نگر، رنگ روڈ اور ہوائی اڈے کے ساتھ بہتر رابطہ قائم ہوگا، جبکہ زرخیز زرعی اراضی اور باغات کا تحفظ بھی ممکن ہوگا اور لوگوں کی بے دخلی سے بھی بچا جا سکے گا۔
انہوں نے اپنے خط میں مرکزی وزیر نتن گڈکری سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ این ایچ-701 اے کا موجودہ راستہ بیروہ سے ہی برقرار رکھا جائے تاکہ یہ منصوبہ عوامی مفاد، پائیدار ترقی اور مقامی معیشت کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔






