ڈیسک رپورٹ/جہانگیر عزیز
جموں و کشمیر میں سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے سمگر شکشا اسکیم کے تحت خریدی گئی دو کتابوں میں مبینہ طور پر متنازع اور علیحدگی پسند شخصیات سے متعلق مواد سامنے آنے کے بعد بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اس معاملے کے بعد حکومت نے فوری طور پر سخت انتظامی کارروائی کرتے ہوئے آٹھ افسران کو معطل کر دیا، ایک کنٹریکچول کمپیوٹر اسسٹنٹ کی خدمات ختم کر دیں، دونوں کتابوں کے مصنفین اور ناشرین کو بلیک لسٹ کر دیا اور معاملے کی انکوائری بھی شروع کر دی ہے۔
یہ تنازع صرف کتابوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے سرکاری تعلیمی اداروں میں کتابوں کی خریداری، جانچ اور منظوری کے پورے نظام پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تنازع کی ابتدا
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب Personalities and Legends of J&K اورGreat Personalities of Jammu and Kashmir نامی کتابوں کے بعض حصے منظر عام پر آئے۔ ان حصوں پر اعتراض کیا گیا کہ ان میں بعض علیحدگی پسند رہنماؤں کو نمایاں اور مثبت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق ان کتابوں میں کشمیر کے لیے’’بھارتی مقبوضہ کشمیر‘‘ او’’بھارت کے زیر انتظام کشمیر‘‘جیسی اصطلاحات بھی استعمال کی گئی تھیں۔
سیاسی حلقوںخاص کر بھاجپا نے ان دعوؤں پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے ایسی کتابوں کا انتخاب سنگین غفلت ہے۔ اس کے بعد معاملہ تیزی سے سیاسی اور انتظامی سطح پر زیر بحث آ گیا۔
کتابوں کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟
سمگر شکشا کے تحت کتابوں کی خریداری عام طور پر مختلف ماہرین پر مشتمل کمیٹیوں کی سفارش پر ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا کتابیں مکمل طور پر پڑھی گئیں؟کیا صرف عنوانات دیکھے گئے؟کیا ہر باب کا جائزہ لیا گیا؟کیا مختلف نظریات رکھنے والے ماہرین شامل تھے؟اگر یہ تمام مراحل مکمل ہوئے تھے تو پھر اعتراضات سامنے کیسے آئے؟
سرکاری دستاویزات خود تسلیم کرتی ہیں کہDue Diligence یعنی مناسب جانچ پڑتال میں کوتاہی ہوئی۔یہ اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ اسکریننگ نظام میں بنیادی خامیاں موجود تھیں۔
حکومت کا فوری ایکشن
جموں و کشمیر حکومت نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu)of2026مؤرخہ 4 جولائی 2026 کے تحت فوری کارروائی کرتے ہوئے آٹھ افسران کو معطل کر دیا۔ معطل کیے گئے اہلکاروں میں سمگر شکشا کے لائبریری کوآرڈی نیٹر، اسسٹنٹ کوآرڈی نیٹر، ایک پرنسپل، ایس سی ای آر ٹی کے ایک اکیڈمک افسر اور چار لیکچررز شامل ہیں۔
اسی حکم کے تحت ایک کنٹریکچول کمپیوٹر اسسٹنٹ کی خدمات بھی فوری طور پر ختم کر دی گئیں۔ حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور ناشرین کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے یہ بھی ہدایت دی کہ ان کی دیگر مطبوعات بھی جموں و کشمیر سے واپس لی جائیں۔
اس کے ساتھ ہی ایڈیشنل چیف سیکریٹری اشونی کمار کی سربراہی میں 30 روزہ محکمانہ انکوائری بھی قائم کر دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کتابیں کس بنیاد پر منظور ہوئیں اور سرکاری لائبریریوں تک کیسے پہنچیں۔
سمگر شکشا کی نئی اسکریننگ کمیٹیاں
تنازع کے بعد حکومت نے سابقہ اسکریننگ کمیٹیوں کو تحلیل کرتے ہوئے جموں اور کشمیر ڈویژن کے لیے نئی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ یہ اقدام اسی حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu)of 2026 (4 جولائی 2026)کے تحت کیا گیا۔
نئی کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 2025-26 کے تعلیمی سال کے تحت فراہم کی گئی تمام کتابوں کی دوبارہ جانچ کریں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی کتاب میں ایک بھی قابل اعتراض لفظ موجود نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ناشرین کی ادائیگیاں بھی اس وقت تک روک دی گئی ہیں جب تک کتابوں کے مواد کی مکمل تصدیق نہیں ہو جاتی۔
کمیٹیوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کتابیں آئینی اقدار، قومی یکجہتی، سائنسی مزاج اور متوازن تاریخی نقطۂ نظر کو فروغ دینے والی ہوں۔ ان کمیٹیوں کو اپنی رپورٹ 30 دن کے اندر پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کا نیا حکم
اسی سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن نے بھی ایک الگ سرکلر جاری کیا ہے۔ اس سرکلر میں سرکاری اور نجی اسکولوں، کوچنگ مراکز اور دیگر تعلیمی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی لائبریریوں، کلاس رومز، دفاتر اور اسٹاف رومز میں موجود تمام کتابوں کا ازسرنو جائزہ لیں۔
اداروں کو کہا گیا ہے کہ اگر کوئی قابل اعتراض مواد ملے تو اس کی مکمل تفصیل، یعنی کتاب کا نام، مصنف، ناشر اور دستیاب نسخوں کی تعداد، متعلقہ زونل ایجوکیشن آفیسر کو ارسال کی جائے۔ تمام اداروں کو یہ بھی تصدیق کرنی ہوگی کہ ان کی لائبریریوں میں موجود کتابیں قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی-2020) کے مطابق ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایات
اس تنازع کے بعد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی اور واضح ہدایت دی کہ آئندہ کسی بھی یونیورسٹی، کالج، اسکول یا عوامی و نجی لائبریری میں ایسا کوئی مواد موجود نہیں ہونا چاہیے جسے حکومت ملک مخالف، علیحدگی پسند یا قابل اعتراض قرار دے۔
انہوں نے متعلقہ محکموں کو یہ بھی ہدایت دی کہ تمام جامعات کی ویب سائٹس اور ڈیجیٹل ریپوزٹریز کا جائزہ لیا جائے؛ قابل اعتراض مواد فوری طور پر ہٹایا جائے؛ کتابوں کی خریداری کے لیے ایک جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) تیار کیا جائے؛ ممتاز ماہرین تعلیم، دانشوروں اور سینئر افسران پر مشتمل پینل وقتاً فوقتاً کتابوں کی اچانک جانچ کرے؛ساتھ ہی کسی بھی غفلت کی صورت میں متعلقہ ادارے کے سربراہ کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔
سیاسی ردعمل
بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس واقعے کوAcademic Jihad قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایسی کتابوں کا سرکاری لائبریریوں تک پہنچنا ناقابل قبول ہے۔
دوسری جانب کانگریس نے بھی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ایسی کتابیں کس طرح منظور ہوئیں اور سرکاری اداروں تک کیسے پہنچیں۔
بعض سول سوسائٹی تنظیموں اور سابق پولیس حکام نے بھی کتابوں کو فوری طور پر واپس لینے کی حمایت کی اور کہا کہ تعلیمی اداروں میں ایسا مواد نہیں ہونا چاہیے جو نوجوان ذہنوں پر منفی اثر ڈالے۔
ماضی میں کتابوں پر پابندی
جموں و کشمیر اور برصغیر میں کتابوں پر پابندی کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف ادوار میں حکومتیں امن و امان، مذہبی حساسیت یا قومی سلامتی کے نام پر متعدد کتابوں پر پابندی عائد کرتی رہی ہیں۔ جموں و کشمیر میں ماضی میں بھی شدت پسندی، عسکریت یا علیحدگی پسندی سے متعلق متعدد مطبوعات کو ضبط یا ان کی تقسیم محدود کی جاتی رہی ہے۔
تاہم سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں منظور شدہ کتابوں پر اس نوعیت کی کارروائی کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے سرکاری تعلیمی اداروں میں کتابوں کی منظوری کے پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر کتابوں کی جانچ کا نظام مضبوط نہ ہو تو ایسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔
ادھرحکومت نے واضح کیا ہے کہ اب ہر کتاب کی کئی سطحوں پر جانچ ہوگی، ناشرین کی ادائیگیاں تصدیق کے بعد ہی ہوں گی اور مستقبل میں کسی بھی کوتاہی پر متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ معاملہ صرف دو کتابوں کی واپسی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں نصابی اور غیر نصابی مطالعہ کے انتخاب، علمی آزادی، تعلیمی نگرانی اور حکومتی احتساب کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جس کے اثرات آئندہ برسوں میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ایک جانب جہاںحکومت کا مؤقف ہے کہ تعلیمی اداروں کو ایسے ہر مواد سے پاک رکھا جائے جو اس کے مطابق آئینی اقدار، قومی یکجہتی اور عوامی نظم و نسق کے خلاف ہو۔وہاں دوسری جانب یہ بھی ضروری ہے کہ کتابوں کے انتخاب اور جانچ کا نظام شفاف، پیشہ ورانہ اور واضح معیار پر مبنی ہو تاکہ علمی تحقیق، تاریخ نویسی اور تعلیمی آزادی جیسے اصول بھی متاثر نہ ہوں۔
حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی اور نئی اسکریننگ کمیٹیوں کی رپورٹیں اس پورے معاملے کی آئندہ سمت کا تعین کریں گی۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ان اصلاحات سے کتابوں کی خریداری کا نظام زیادہ مؤثر اور شفاف بن پاتا ہے یا نہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس واقعے نے جموں و کشمیر میں تعلیمی پالیسی اور لائبریری نظام پر ایک نئی اور اہم بحث چھیڑ دی ہے۔

کتابوں کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟


