امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 15 جولائی: کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کو نئی دہلی کے جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج کو صرف جموں و کشمیر کے ریاستی درجے (اسٹیٹ ہڈ) کی بحالی تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ آرٹیکل 370 کے تحت خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ بھی کرنا چاہیے۔
شیخ مصطفیٰ کمال کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کی رہائش گاہ پر جانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوز نے کہا کہ "ہمارا اصل مسئلہ صرف ریاستی درجہ نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کوئی ہمیشہ کے لیے نہیں چھین سکتا، جموں و کشمیر کو مستقل طور پر مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ نہیں رکھا جا سکتا۔”
انہوں نے کہا کہ چاہے وزیر اعظم ہوں یا وزیر داخلہ، کوئی بھی جموں و کشمیر کو ہمیشہ کے لیے یونین ٹیریٹری نہیں رکھ سکتا، اس لیے نیشنل کانفرنس کو اپنی جدوجہد میں آرٹیکل 370 کی بحالی اور جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو بھی شامل کرنا چاہیے۔
مجوزہ دہلی احتجاج میں شرکت سے متعلق سوال پر سیف الدین سوز نے کہا کہ انہیں نیشنل کانفرنس کی جانب سے کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی۔
سوز نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کا حقیقی مسئلہ داخلی خودمختاری ہے اور اسی کے لیے جدوجہد کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ تاثر نہیں دیا جانا چاہیے کہ انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا، بلکہ انہیں اپنے آئینی حقوق کی بحالی کے لیے پرامید رہنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر نے اپنی مخصوص تاریخی اور سیاسی بنیادوں پر بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا، اس لیے جموں و کشمیر کی داخلی خودمختاری اور آئینی حقوق کی بحالی عوام کا بنیادی مطالبہ ہونا چاہیے۔






