امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے منگل کو نئی دہلی میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ، لوک کلیان مارگ، کے باہر احتجاج کیا۔ احتجاج میں کانگریس کے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ اور رہنما بھی شریک ہوئے۔
کانگریس نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ وہ طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس تشدد پر وزیرِ اعظم سے جواب مانگنے آئے ہیں، لیکن حکومت نہ جوابدہی قبول کر رہی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ "ہندوستان کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے، اس لیے وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔” احتجاج سے قبل راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے رام منوہر لوہیا اسپتال جا کر پیر کے روز پولیس کارروائی میں زخمی ہونے والے طلبہ کی عیادت بھی کی۔
اس دوران مرکزی وزیر جتیندر سنگھ، کانگریس کے احتجاج کے سلسلے میں راہل گاندھی سے بات چیت کے لیے لوک کلیان مارگ پہنچے۔
کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ سید نصیر حسین نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں دیا جا رہا، اسی لیے اپوزیشن کے ارکان وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے۔
یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا ہے جب دارالحکومت دہلی میں نیٹ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ تحریک پر سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں، اور اپوزیشن جماعتیں حکومت سے جوابدہی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔





