امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 20 جولائی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے پارلیمنٹ مارچ کے دوران پیر کو دہلی میں شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں ہزاروں مظاہرین کو پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ متعدد مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ کئی کو حراست میں لیا گیا۔
سی جے پی کے ترجمان سورَو داس اور آشوتوش رنکا نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سے ملاقات کر کے اپنے مطالبات پر مشتمل تحریری یادداشت پیش کی۔ یادداشت میں سماجی کارکن سونم وانگچک کی فوری رہائی، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور نیٹ۔یو جی پرچہ لیک کے بعد جان گنوانے والے تمام امیدواروں کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
ملاقات کے بعد جے پی نڈا نے کہا کہ انہوں نے مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے اور حالات معمول پر لانے میں انتظامیہ کا تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق مطالبات پر ابتدائی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور تحریری یادداشت موصول ہونے کے بعد معاملے پر مناسب سطح پر غور کیا جائے گا، تاہم فی الحال کوئی حتمی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
ادھر دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو کی جانب سے دائر درخواست، جس میں وانگچک کو صفدر جنگ اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی گئی ہے، پر سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے تمام طبی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔
دوسری جانب سی جے پی نے الزام لگایا کہ پولیس نے پرامن مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی، آنسو گیس کے گولے داغے، لاٹھی چارج کیا اور کئی افراد کو حراست میں لیا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔ صورتحال کے پیشِ نظر پارلیمنٹ اور وسطی دہلی کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت رہی اور بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کر دی گئیں۔






